Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

قسطنطین نے 325ء میں مسیحیت قبول کر کے اس کو سرکاری مذہب کے حیثیت دیدی تھی، چنانچہ روم کی بیشتر آبادی اب حضرت عیسیٰ کی پیرو تھی، اس کے مقابلے میں ایرانی سورج دیوتا کے پرستار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے روم پر جس بادشاہ کی حکومت تھی، اس کا نام ماریس (Maurice) تھا، ماریس کی نااہلی اور بدانتظامی کی وجہ سے آپ کو نبوت ملنے سے آٹھ سال قبل 602ء میں اس کی فوج نے اس کے خلاف بغاوت کر دی ، اس بغاوت کی قیادت ایک فوجی کپتان فوکاس (Phocas) نے کی تھی، بغاوت کامیاب ہوگئی، اور فوکاس روم کے شہنشاہ کی جگہ تخت پر قابض ہو گیا— اس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد شہنشاہ روم ماریس اور اس کے خاندان کو نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا۔ فوکاس (Phocas) نے اپنی ہمسایہ سلطنت ایران کو ایک سفیر بھیج کر نئی تخت نشینی کی اطلاع دی۔ اس وقت ایران کے تخت پر نوشیرواں عادل کا لڑکا خسرو پرویز (2 Chosroes) تھا۔ خسرو پرویز کو 91-590ء میں اندرونی سازش اور بغاوت کی وجہ سے اپنے ملک سے فرار ہونا پڑا تھا۔ اس زمانے میں مقتول رومی شہنشاہ ماریس نے اس کو اپنے علاقہ میں پناہ دی تھی، اور دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے سلسلے میں اس کی مدد کی تھی، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انھیں دنوں قسطنطنیہ کے زمانہ قیام میں خسرو نے ماریس کی لڑ کی سے شادی کر لی تھی اور اس رشتہ کی بنا پر ماریس کو وہ اپنا باپ کہتا تھا۔ چنانچہ جب خسرو کو رومی انقلاب کی خبر ملی تو وہ سخت برہم ہوا، اس نے رومی سفیر کو قید کرا دیا، اور نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد فوڑا اس نے اپنی فوجوں کے ذریعے روم پر چڑھائی کردی، 603ء میں اس کی فوجیں دریائے فرات کو پار کر کے شام کے شہروں میں داخل ہو گئیں— فوکاس اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page