قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
نااہلی کی وجہ سے اس غیر متوقع حملہ کو رو کنے میں کامیاب نہ ہوا، ایرانی فوجیں بڑھتی رہیں، یہاں تک کہ انطاکیہ کو فتح کرتے ہوئے یروشلم پر قابض ہوگئیں، ایرانی سلطنت کے حدود فرات سے پار کر کے یکا یک وادی نیل تک وسیع ہوگئے، سابقہ رومی سلطنت کے مذہبی داروگیری کی وجہ سے چرچ کے مخالف فرقے نسطوری اور یعقوبی نیز یہودی پہلے سے رومی حکومت سے ناراض تھے، اب انھوں نے روم دشمنی میں نئے فاتحین کا ساتھ دیا، اس چیز نے خسرو کی کامیابی کو بہت آسان بنا دیا۔ فوکاس کی ناکامی دیکھ کر سلطنت کے کچھ امرا نے افریقہ کے رومی گورنر کے یہاں خاموش پیغام بھیجا کہ وہ ملک کو بچانے کی کوشش کرے۔ اس نے اپنے لڑکے ہرقل (Heraclius) کو اس مہم پر روانہ کیا، ہرقل سمندر کے راستہ سے فوج لے کر افریقہ سے روانہ ہوا، اور یہ ساری کارروائی اس قدر راز داری کے ساتھ انجام پائی کہ فوکاس کو اس وقت تک اس کی خبر نہیں ہوئی جب تک اس نے اپنے محل سے سمندر میں آتے ہوئے جہازوں کے نشانات نہیں دیکھ لیے، ہرقل معمولی لڑائی کے بعد دارالسلطنت پر قابض ہوگیا، اور فوکاس قتل کر دیا گیا۔ ہرقل نے فوکاس کو تو ختم کر دیا، مگر وہ ایرانی سیلاب کو رو کنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ 616ء تک رومی دارالسلطنت سے باہر اپنی شہنشاہی کا تمام مشرقی اور جنوبی حصہ کھو چکے تھے، عراق، شام فلسطین، مصر، ایشیائے کو چک، ہر جگہ صلیبی علم کے بجائے درفش کاویانی لہرارہا تھا، رومی سلطنت قسطنطنیہ کی چہار دیواری میں محدود ہو کر رہ گئی تھی، محاصرہ کی وجہ سے تمام راستے بند تھے، چنانچہ شہر میں قحط اور وبائی امراض نے پھیل کر مزید مصیبت پیدا کردی، رومی سلطنت کے عظیم الشان درخت کا صرف تنا باقی رہ گیا تھا، اور وہ بھی خشک ہورہا تھا، خود قسطنطنیہ کے اندر دشمن کے گھس آنے کا خوف تمام آبادی پر اس قدر چھایا ہوا تھا کہ تمام کاروبار بند تھے، وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader