Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

حیثیت سے استقبال کرتا جس نے نہایت خوبی کے ساتھ اس کے محسن ماریص کا انتقام لے لیا تھا، مگر جنگ کو جاری رکھ کر اس نے اپنے اصل کردار کو نمایاں کر دیا، (گین ، ص 74) ۔ اس وقت ایرانی شہنشاہیت اور رومی سلطنت میں کیا فرق پیدا ہو چکا تھا اور ایرانی فاتح اپنے کو کتنا بڑا سمجھنے لگا تھا، اس کا اندازہ خسر و پرویز کے اس خط سے ہوتا ہے، جو اس نے بیت المقدس سے ہر قل کو لکھا تھا : ” سب خداؤں سے بڑا خدا، تمام روئے زمین کے ممالک خسرو کی طرف سے اس کے کمینہ اور بے شعور بندے ہر قل کے نام، تو کہتا ہے کہ تجھے اپنے خدا پر بھروسہ ہے، کیوں نہ تیرے خدا نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا لیا۔ “ ان حالات نے قیصر روم کو بالکل مایوس کر دیا، اور اس نے طے کر لیا کہ اب وہ قسطنطنیہ چھوڑ کر بحری راستہ سے اپنی جنوبی افریقہ کی ساحلی قیام گاہ میں چلا جائے جو قر طاجنہ (Carthage) یعنی موجودہ تیونس میں واقع تھی، اب اس کے سامنے ملک کو بچانے کے بجائے اپنی ذات کو بچانے کا مسئلہ تھا۔ شاہی کشتیاں محل کی خزانوں سے لادی جا چکی تھیں مگر عین وقت پر رومی کلیسا کے بڑے پادری نے اس کو مذہب کا واسطہ دے کر روکنے میں کامیابی حاصل کرلی، اور اس کو سینٹ صوفیا کی قربان گاہ پر لے گئے، اور اس کو آمادہ کیا کہ وہاں وہ اس بات کا عہد کرے کہ وہ اپنی اس رعایا کے ساتھ جئے گا یا مرے گا جس کے ساتھ خدا نے اس کو وابستہ کیا ہے (گین ، صفحہ 75) ۔ اسی دوران میں ایرانی جنرل سین (Saine) نے تجویز کیا کہ ہرقل ایک صلح کا قاصد شہنشاہ ایران کی خدمت میں روانہ کرے، اس کو ہر قل اور اس کے مشیروں نے بڑی خوشی سے قبول کیا ، مگر جب شہنشاہ ایران خسرو پرویز کو اس کی خبر پہنچی تو اس نے کہا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page