Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

”مجھ کو یہ نہیں بلکہ خود ہر قل زنجیروں میں بندھا ہوا میرے تخت کے نیچے چاہیے، میں رومی حکمران سے اس وقت تک صلح نہیں کروں گا، جب تک وہ اپنے صلیبی خدا کو چھوڑ کر ہمارے سورج دیوتا کی پرستش نہ کرے“ (گبن، صفحہ 76)۔ تاہم چھ سالہ لڑائی نے بالآخر ایرانی حکمران کو مائل کیا کہ وہ فی الحال کچھ شرائط پر صلح کرلے، اس نے شرط پیش کی: ”ایک ہزار ٹیلنٹ (یونانیوں اور رومیوں کا ایک قدیم وزن) سونا، ایک ہزار ٹیلنٹ (Talent) چاندی، ایک ہزار ریشمی تھان، ایک ہزار گھوڑے، ایک ہزار کنواری لڑکیاں۔“ گبن ان شرائط کو بجا طور پر شرمناک شرائط (ignominious terms) کہتا ہے۔ ہر قل یقیناً ان شرائط کو قبول کر لیتا، مگر جتنی کم مدت میں اور جس چھوٹے سے لئے ہوئے علاقہ سے اس کو ان قیمتی شرائط کی تکمیل کرنی تھی، اس کے مقابلے میں اس کے لیے زیادہ قابل ترجیح بات یہ تھی کہ وہ انھیں ذرائع کو دشمن کے خلاف آخری حملہ کی تیاری کے لیے استعمال کرے۔ ایک طرف یہ واقعات ہورہے تھے، دوسری طرف ایران و روم کے درمیان عرب کے مرکزی مقام ”مکہ“ میں ان واقعات نے ایک اور کشمکش پیدا کر دی تھی، ایرانی سورج دیوتا کو مانتے تھے، اور آگ کی پرستش کرتے تھے، اور رومی وحی ورسالت کے ماننے والے تھے، اس لیے نفسیاتی طور پر اس جنگ میں مسلمانوں کی ہمدردیاں رومی عیسائیوں کے ساتھ تھیں اور مشرکین مظاہر پرست ہونے کی وجہ سے مجوسیوں سے اپنا مذہبی رشتہ جوڑتے تھے، اس طرح روم و ایران کی کشمکش اس کشمکش کا ایک خارجی نشان بن گئی جو کہ میں اہلِ اسلام اور کفار و مشرکین کے درمیان جاری تھی، دونوں گروہ سرحد پار کی اس جنگ کے انجام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page