قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
کو خود اپنی باہمی کشمکش کے انجام کی ایک علامت سمجھنے لگے، چنانچہ 616 ء میں جب ایرانیوں کا غلبہ نمایاں ہو گیا اور رومیوں کے تمام مشرقی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں چلے گئے، اور اس کی خبریں مکہ پہنچیں تو اسلام کے مخالفین نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ دیکھو ہمارے بھائی تمہارے جیسا مذہب رکھنے والوں پر غالب آگئے ہیں، اسی طرح اپنے ملک میں بھی ہم تم کو اور تمہارے دین کو مٹا کر رکھ دیں گے۔ مکہ کے مسلمان جس بے بسی اور کمزوری کی حالت میں تھے، اس میں یہ الفاظ ان کے لیے زخم پر نمک کا کام کرتے تھے، عین اس حالت میں پیغمبر خدا کی زبان سے یہ الفاظ جاری کیے گئے : غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۔ وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (30:2-6)۔ یعنی رومی قریب کی زمین میں مغلوب ہو گئے ہیں مگر مغلوب ہونے کے بعد چند سال میں پھر وہ غالب آجا ئیں گے، پہلے اور پیچھے سب اختیار خدا کے ہاتھ میں ہے، اور اس دن مسلمان خدا کی مدد سے خوش ہوں گے وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ وہ غالب اور مہربان ہے۔ خدا کا وعدہ ہے، خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ ”اس وقت جب کہ یہ پیشین گوئی کی گئی‘‘، گبن لکھتا ہے ”کوئی بھی پیشگی خبراتنی بعید از وقوع نہیں ہوسکتی تھی، کیوں کہ ہرقل کے ابتدائی بارہ سال رومی سلطنت کے خاتمہ کا اعلان کر رہے تھے‘‘ (صفحہ 74)۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ پیشین گوئی ایک ایسی ذات کی طرف سے کی گئی تھی، جو تمام ذرائع و وسائل پر تنہا قدرت رکھتا ہے، اور انسانوں کے دل جس کی مٹھی میں ہیں، چنانچہ ادھر خدا کے فرشتے نے ایک امی کی زبان سے یہ خبردی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader