Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ادھر ہر قل قیسر روم میں ایک انقلاب آنا شروع ہو گیا، گبن لکھتا ہے : ” تاریخ کے نمایاں کرداروں میں سے ایک غیر معمولی کردار وہ ہے، جو ہر قل کے اندر ہم دیکھتے ہیں، اپنے لمبے دور حکومت کے ابتدائی اور آخری سالوں میں یہ شہنشاہ سستی، عیاشی اور اوہام کا بندہ دکھائی دیتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی رعایا کی مصیبتوں کا ایک بے حس اور نامراد تماشائی ہے، مگر صبح و شام کا بے رونق کہرہ، دوپہر کے سورج سے کچھ دیر کے لیے چھٹ جاتا ہے، یہی حال ہر قل کا ہوا، محل کا آرکیڈ لیس (1) Arcadius یکایک میدان جنگ کا سیزر Caesar بن (2) گیا، اور روم کی عزت چھ جرأت مندانہ مہموں کے ذریعہ حاصل کر لی گئی۔ یہ رومی مورخین کا فرض تھا کہ وہ حقیقت سے پردہ اٹھاتے اور اس کی خواب اور بیداری کے وجوہ بیان کرتے، اتنے دنوں بعد اب ہم یہی قیاس کر سکتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی اسباب نہیں تھے، بلکہ یہ زیادہ تر اس کے شخصی جذبے کا نتیجہ تھا، اسی کے تحت اس نے اپنی تمام دلچسپیاں ختم کردیں، حتی کہ اپنی بھانجی ( Martina) کو بھی چھوڑ دیا جس سے اس کو اس قدر تعلق تھا کہ محرم ہونے کے باوجود اس کے ساتھ اس نے شادی کر لی تھی۔ “ Gibbon, vol. 5, p. 76-77 وہی ہر قل جس کی ہمت پست ہو چکی تھی، اور جس کا دماغ اس سے پہلے کچھ کام نہیں کرتا تھا، اب اس نے ایک نہایت کامیاب منصوبہ بنایا، قسطنطنیہ میں بڑے عزم وانہمک کے ساتھ جنگی تیاریاں شروع ہوگئیں، تاہم اس وقت صورت حال ایسی تھی کہ 622ء میں (1) آرکیڈ لیس (408-378ء) رومی سلطنت کا ایک کمزور بادشاہ جو 395ء میں تخت نشین ہوا۔ (2) جولیس سیزر (44۔ 102 ق م) عظیم رومی فوجی جنرل اور بادشاہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page