قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
جب ہرقل اپنی فوجیں لے کر قسطنطنیہ سے روانہ ہوا تو لوگوں نے سمجھا کہ دنیا رومن ایمپائر کا آخری تماشہ دیکھ رہی ہے۔ ہرقل جانتا تھا کہ ایرانی حکومت سمندری طاقت میں کمزور ہے، اس نے اپنے سمندری بیڑے کو پشت سے حملہ کے لیے استعمال کیا، اس نے اپنی فوجیں بحراسود کے راستے سے گزار کر آرمینیا میں اتار دیں اور وہاں عین اس مقام پر ایرانیوں کے اوپر ایک بھر پور حملہ کیا، جہاں سکندر اعظم نے اس وقت کی ایرانی سلطنت کو شکست دی تھی جب اس نے شام سے مصر تک اپنا مشہور مارچ کیا تھا، ایرانی اس غیر متوقع حملہ سے گھبرا گئے اور ان کے قدم اکھڑ گئے، مگر ابھی وہ ایشیائے کوچک میں زبردست فوج رکھتے تھے، وہ دوبارہ اس فوج سے حملہ کرتے اگر ہرقل نے اس کے بعد شمال کی جانب سمندر سے اسی قسم کی دوسری غیر متوقع چڑھائی نہ کی ہوتی ، پھر وہ سمندر کے راستہ سے قسطنطنیہ واپس آیا، آواریوں (Avars) سے ایک معاہدہ کیا اور ان کی مدد سے ایرانیوں کو ان کے دار السلطنت کے گرد رو ک دیا، ان دو حملوں کے بعد اس نے مزید تین مہمیں جاری کیں۔ 623ء میں، 624ء میں اور 625ء میں یہ مہمیں بحر اسود کے جنوبی ساحل سے حملہ آور ہو کر ایرانی قلمرو میں گھسیں اور میسو پوٹامیا تک پہنچ گئیں ، اس کے بعد ایرانی جارحیت کا زور ٹوٹ گیا، اور تمام رومی علاقے ایرانی فوجوں سے خالی ہوگئے، اب ہر قل خود ایرانی شہنشاہیت کے قلب پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں تھا، تاہم آخری فیصلہ کن جنگ دجلہ کے کنارے نینوا کے مقام پر دسمبر 627ء میں ہوئی۔ اب خسرو کی ہمت چھوٹ گئی تھی ، وہ اپنے محبوب محل "دستگرد" سے بھاگنے کی تیاری کرنے لگا۔ مگر اسی دوران میں خود اس کے محل کے اندر اس کے خلاف بغاوت ہوگئی۔ اس کے لڑ کے شیرویہ نے اس کو گرفتار کر کے ایک تہہ خانے میں بند کر دیا، جہاں وہ پانچویں دن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader