Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مخالفینِ مذہب کا مقدمہ

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

نے ابتدا میں کائنات کو حرکت دی۔ چنانچہ شروع میں لوگ محرک اول کے طور پر خدا کو مانتے رہے، والٹیر نے کہا کہ خدا نے اس کائنات کو بالکل اسی طرح بنایا ہے، جس طرح ایک گھڑی ساز گھڑی کے پرزے جمع کرکے انھیں ایک خاص شکل میں ترتیب دے دیتا ہے، اور اس کے بعد گھڑی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد ہیوم نے اس ’’بے جان اور بے کار خدا‘‘ کو بھی یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ ہم نے گھڑیاں بنتے ہوئے تو دیکھی ہیں، لیکن دنیا ئیں بنتی ہوئی نہیں دیکھیں، اس لیے کیوں کر ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم خدا کو مانیں۔ سائنس کی ترقی اور علم کے پھیلاؤ نے اب انسان کو وہ کچھ دکھا دیا ہے، جس کو پہلے اس نے دیکھا نہیں تھا۔ واقعات کی جن کڑیوں کو نہ جاننے کی وجہ سے ہم سمجھ نہیں سکتے تھے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا، وہ اب واقعات کی تمام کڑیوں کے سامنے آجانے کی وجہ سے ایک جانی بوجھی چیز بن گیا ہے۔ مثلاً پہلے آدمی یہ نہیں جانتا تھا کہ سورج کیسے نکلتا اور ڈوبتا ہے ۔ اس لیے اس نے سمجھ لیا کہ کوئی خدا ہے جو سورج کو نکالتا ہے اور اس کو غروب کرتا ہے، اس طرح ایک مافوق الفطری طاقت کا خیال پیدا ہوا، اور جس چیز کو آدمی نہیں جانتا تھا، اس کے متعلق کہہ دیا کہ یہ اسی طاقت کا کرشمہ ہے، مگر اب جب کہ ہم جانتے ہیں کہ سورج کا نکلنا اور ڈوبنا، اس کے گرد زمین کے گھومنے کی وجہ سے ہوتا ہے، تو سورج کو نکالنے اور غروب کرنے کے لیے خدا کو ماننے کی کیا ضرورت ؟ اسی طرح وہ تمام چیزیں جن کے متعلق پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ان کے پیچھے کوئی ان دیکھی طاقت کام کر رہی ہے، وہ سب جدید مطالعہ کے بعد ہماری جانی پہچانی فطری طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ نظر آیا۔ گویا واقعہ کے فطری اسباب معلوم ہونے کے بعد وہ ضرورت آپ سے آپ ختم ہو گئی جس کے لیے پہلے لوگوں نے ایک خدا یا مافوق الفطری طاقت کا وجود فرض کر لیا تھا۔ اگر قوس قزح گرتی ہوئی بارش پر سورج کی شعاعوں کے انعطاف (refraction) سے پیدا ہوتی ہے تو یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page