Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

بیکسی کی حالت میں مرگیا۔ اس کے اٹھارہ لڑکوں کو اس کی آنکھ کے سامنے قتل کر دیا گیا، مگر اس کا یہ لڑکا بھی صرف آٹھ مہینے تخت پر رہ سکا۔ اس کے دوسرے شہزادے نے اس کو قتل کر کے تاج پر قبضہ کر لیا، اس طرح شاہی خاندان کے اندر آپس میں تلواریں چلنا شروع ہوگئیں ۔ یہاں تک کہ چار سال میں نو بادشاہ بدلے گئے ۔ ان حالات میں ظاہر ہے کہ از سر نو رومیوں کا مقابلہ کرنے کا کوئی سوال نہیں تھا، خسرو پرویز کے بیٹے قباد ثانی نے رومی مقبوضات سے دست بردار ہو کر صلح کر لی۔ مقدس صلیب کی اصل لکڑی واپس کر دی گئی، اور مارچ 628ء میں فاتح ہرقل اس شان سے قسطنطنیہ واپس آیا کہ اس کے رتھ کو چار ہاتھی کھینچ رہے تھے، اور بے شمار لوگ دار السلطنت کے باہر لیمپوں اور زیتون کی شاخوں کو لیے ہوئے اپنے ہیرو کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ (صفحہ 94) اس طرح قرآن نے رومیوں کے دوبارہ غلبہ کے متعلق جو پیشین گوئی کی تھی وہ ٹھیک اپنے وقت پر (دس سال کے اندر) مکمل طور پر پوری ہوگئی۔ گبن نے اس پیشین گوئی پر حیرت کا اظہار کیا ہے، مگر اسی کے ساتھ اس کی اہمیت گھٹانے کے لیے اس نے بالکل غلط طور پر اس کو خسرو کے نام آپ کے دعوت نامے کے ساتھ جوڑ دیا ہے، وہ لکھتا ہے : "ایرانی شہنشاہ نے جب اپنی فتح مکمل کر لی تو اس کو مکہ کے ایک گمنام شہری کا خط ملا جس میں اس کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ محمد کو خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے تسلیم کرے، اس نے دعوت کو نامنظور کر دیا اور خط کو چاک کر دیا، رسول عربی کو جب یہ خبر ملی تو انھوں نے کہا: ”خدا اسی طرح خسرو کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور اس کی طاقت کو برباد کر دے گا۔“ مشرق کی دو عظیم سلطنتوں کے عین کنارے بیٹھے ہوئے محمد ان دونوں حکومتوں کی باہمی تباہی سے اندر ہی اندر خوش ہوتے رہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page