Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ایرانی فتوحات کے درمیان انھوں نے پیشین گوئی کرنے کی جرات کی کہ چند سال کے بعد فتح دوبارہ رومیوں کے جھنڈے کی طرف لوٹ آئے گی، اس وقت جب کہ یہ پیشین گوئی کی گئی ، کوئی بھی پیشگی خبر اتنی بعید وقوع نہیں ہوسکتی تھی ، کیوں کہ ہر قل کے ابتدائی بارہ سال رومی شہنشاہیت کے خاتمہ کا اعلان کر رہے تھے۔‘‘ Gibbon. pp.73-74 مگر اسلامی تاریخ کا ہر مورخ جانتا ہے کہ اس پیشین گوئی کا خسرو کے نام دعوت نامے سے کوئی تعلق نہیں، کیوں کہ شہنشاہ ایران کے نام اسلام کا دعوت نامہ ہجرت کے ساتویں سال صلح حدیبیہ کے بعد بھیجا گیا ہے، جو سن عیسوی کے لحاظ سے 628 ء ہوتا ہے، جب کہ رومیوں کی فتح کی پیشین گوئی ہجرت سے پہلے مکہ میں 216ء میں نازل ہوئی تھی۔ (اعجاز قرآن پر انسائیکلوپیڈیا یا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس میں مقالہ Quran جلد 1 ، صفحات 54، 541، 545 قابل ملاحظہ ہیں)۔ 3۔ قرآن کی تیسری خصوصیت جس کو میں اس کی صداقت کے ثبوت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ واقعہ ہے کہ قرآن با وجود یہ کہ علمی ترقی سے بہت پہلے نازل ہوا، اس کی کوئی بات آج تک غلط ثابت نہ ہوسکی، اگر یہ صرف ایک انسانی کلام ہوتا تو ایسا ہونا ناممکن تھا۔ چین کے نو جوان طلبہ کی ایک جماعت جو حکومت کے زیر اہتمام کیلی فورنیا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی تھی، ان میں سے تقریباً بارہ افراد نے برکلے کے گرجا گھر میں جا کر پادری سے کہا کہ وہ ان کے لیے اتوار کے دن ایک کلاس کا انتظام کرے، چینی نوجوان نے نہایت صفائی سے کہا کہ انھیں ذاتی طور پر عیسائیت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، اور نہ وہ خود عیسائی بننا چاہتے ہیں، البتہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس مذہب نے امریکی تمدن پر کیا اور کتنے اثرات ڈالے ہیں۔ پادری نے اس جماعت کی ہفتہ وار تعلیم کے لیے ریاضیات اور فلکیات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page