قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن ایک ایسے زمانے میں اترا جب انسان عالم فطرت کے بارے میں بہت کم جانتا تھا، اس وقت بارش کے متعلق یہ تصور تھا کہ آسمان میں کوئی دریا ہے، جس سے پانی بہہ کر زمین پر گرتا ہے، اور اسی کا نام بارش ہے، زمین کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ وہ چپٹی فرش کی مانند ہے، اور آسمان اس کی چھت ہے جو پہاڑوں کی چوٹیوں کے اوپر کھڑی کی گئی ہے، ستاروں کے متعلق یہ خیال تھا کہ وہ چاندی کی چمکتی ہوئی کیلیں ہیں، جو آسمان کے گنبد میں جڑی ہوئی ہیں یا وہ چھوٹے چھوٹے چراغ ہیں، جو رات کے وقت رسیوں کی مدد سے لٹکائے جاتے ہیں، قدیم اہل ہند یہ سمجھتے تھے کہ زمین ایک گائے کی سینگ پر ہے، اور جب گائے زمین کو ایک سینگ سے دوسری سینگ پر منتقل کرتی ہے تو اس کے سر کی جنبش سے زلزلہ آجاتا ہے، کو پرنیکس (1543-1473) تک یہ نظریہ تھا کہ سورج ساکن ہے، اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کے بعد علم کی ترقی ہوئی، انسان کے مشاہدے اور تجربے کی قوت بڑھ گئی جس کی وجہ سے بے شمار نئی معلومات حاصل ہوئیں، زندگی کا کوئی شعبہ اور علم کا کوئی گوشہ ایسا نہیں رہا جس میں پہلے کے مسلمات بعد کی تحقیق سے غلط ثابت نہ ہوگئے ہوں___ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیڑھ ھزار برس پہلے کا کوئی بھی انسانی کلام ایسا نہیں ہوسکتا جو آج بھی اپنی صحت کو پوری طرح باقی رکھے ہوئے ہو___ یوں کہ آدمی اپنے وقت کی معلومات کی روشنی میں بولتا ہے، وہ شعور کے تحت بولے یا لاشعور کے تحت، بہر حال وہ وہی کچھ دہرائے گا، جو اس نے اپنے زمانہ میں پایا ہو، چنانچہ ڈیڑھ ھزار برس پہلے کی کوئی بھی انسانی کتاب آج ایسی موجود نہیں ہے، جو غلطیوں سے پاک ہو___ مگر قرآن کا معاملہ اس سے مختلف ہے، وہ جس طرح ڈیڑھ ھزار برس پہلے کے دور میں برحق تھا، آج بھی وہ اسی طرح برحق ہے، زمانے کے گزرنے سے اس کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آیا، یہ واقعہ اس بات کا قطعی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader