Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

ثبوت ہے کہ یہ ایک ایسے ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے جس کی نگاہ ازل سے ابد تک محیط ہے — جو سارے حقائق کو اپنی اصل شکل میں جانتا ہے، جس کی واقفیت زمانے اور حالات کی پابند نہیں اگر یہ محدود نظر رکھنے والے انسان کا کلام ہوتا تو بعد کا زمانہ اسی طرح اس کو غلط ثابت کر دیتا، جیسے ہر انسانی کلام بعد کے زمانے میں غلط ہو چکا ہے۔ قرآن کا اصل موضوع اخروی سعادت ہے، اس لحاظ سے وہ دنیا کے معروف علوم و فنون میں سے کسی کی تعریف میں نہیں آتا، مگر اس کا مخاطب چونکہ انسان ہے، اس لیے قدرتی طور پر وہ اپنی تقریروں میں ہر اس علم مس (touch) کو کرتا ہے جس کا تعلق انسان سے ہے، یہ ایک بہت نازک صورت حال ہے کیوں کہ آدمی اپنی گفتگو میں اگر کسی فن کو مس (touch) کر رہا ہے تو خواہ وہ اس پر کوئی تفصیلی کلام نہ کرے، اگر اس کی معلومات ناقص ہیں، تو یقینی طور پر وہ ایسے الفاظ استعمال کرے گا جو صورت واقعہ سے ٹھیک ٹھیک مطابقت نہ رکھتے ہوں، مثلاً ارسطو نے عورت کی کمتری ثابت کرنے کے لیے یہ کہا کہ ـــ "اس کے منہ میں مرد سے کم دانت ہوتے ہیں۔" ظاہر ہے کہ یہ بیان علم الاجسام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، یہ ایک ایسا بیان ہے جو علم الاجسام سے ناواقفیت کا ثبوت دیتا ہے۔ کیوں کہ یہ معلوم ہے کہ مرد اور عورت کے منہ میں دانت کی تعداد یکساں ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، یہ حیرت انگیز بات ہے کہ قرآن اگرچہ مختلف انسانی علوم کو بیان کرتا ہے یا اس کی طرف اشارہ کرتا ہے، مگر اس کے بیانات میں کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں آنے پائی، جو بعد کی وسیع تر تحقیقات سے یہ ثابت کرے کہ یہ ایسے شخص کا کلام ہے، جس نے کم تر معلومات کی روشنی میں اپنی باتیں کہیں تھیں ۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک بالا تر ہستی کا کلام ہے، جو اس وقت بھی جانتا تھا، جب کوئی نہیں جانتا تھا، اور ان چیزوں کو بھی جانتا تھا، جس سے اب تک لوگ ناواقف ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page