قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں میں مختلف علوم سے متعلق چند مثالیں دوں گا جس سے اندازہ ہوگا کہ ایک علم کو مس (touch) کرتے ہوئے بھی قرآن کس طرح حیرت انگیز طور پر ان صداقتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں، جو قرآن کے نزول کے وقت معلوم شدہ نہیں تھیں، بلکہ بعد کو دریافت ہوئیں۔ اس بحث سے پہلے بطور تمہید یہ عرض کر دینا مناسب ہوگا کہ جدید تحقیقات سے قرآنی الفاظ کی مطابقت اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ یہ تحقیقات متعلقہ واقعہ کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوچکی ہیں، اور اس طرح مادی کائنات کے بارے میں قرآن کے اشاراتی الفاظ کی تفسیر کے لیے ہم کو ضروری مواد حاصل ہوگیا ہے، اب اگر مستقبل کا مطالعہ کسی موجودہ تحقیق کو مکمل طور پر یا جزئی طور پر غلط ثابت کردے تو اس سے کسی بھی درجہ میں قرآن کی تغلیط نہیں ہوگی، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ قرآن کے مجمل اشارہ کے تفصیلی تعین میں غلطی ہوگئی تھی، ہم کو یقین ہے کہ آئندہ کی صحیح تر معلومات قرآن کے اشاراتی الفاظ کو زیادہ صحیح طور پر واضح کرنے والی ہوں گی، وہ کسی اعتبار سے اس سے مختلف نہیں ہوسکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کے جو بیانات ہیں، ان کو ہم دو قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں، ایک وہ جو امور سے متعلق ہے، جن کے متعلق انسان کو نزول قرآن کے وقت کسی قسم کی معلومات حاصل نہیں تھیں ۔ اور دوسرے وہ جن کے متعلق وہ سطحی اور ظاہری معلومات رکھتا تھا۔ کائنات کی بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کے متعلق دور سابق کے لوگ کچھ نہ کچھ جانتے تھے ۔ مگر ان کا یہ علم ان دریافْتوں کے مقابلے میں بے حد ناقص اور ادھورا تھا، جو بعد کے زمانے میں علمی ترقی کے دور میں انسان کے سامنے آئیں ۔ قرآن کی مشکل یہ تھی کہ وہ کوئی سائنسی کتاب نہیں تھی ، اس لیے اگر وہ عالم فطرت کے بارے میں یکا یک نئے نئے انکشافات لوگوں کے سامنے رکھنا شروع کر دیتا تو انھیں چیزوں پر بحث چھڑ جاتی اور اس کا اصل مقصد۔ انسان کی اصلاح پس پشت چلا جاتا ، یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ اس نے علمی ترقی سے بہت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader