قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلے کے زمانے میں اس طرح کی چیزوں پر کلام کیا، اور ان کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے جس میں دورِ سابق کے لوگوں کے لیے کنفیوزن کا کوئی سامان نہیں تھا، اور اسی کے ساتھ بعد کے انکشافات کا بھی وہ پوری طرح احاطه کیے ہوئے تھے۔ (الف) قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر پانی کا ایک خاص قانون بیان کیا گیا ہے ۔ ایک مقام پر یہ الفاظ ہیں : وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا (25:53) - یعنی ، اور وہی ہے جس نے ملائے دو دریا، ایک کا پانی میٹھا خوش گوار ہے اور ایک کا کھاری تلخ، اور دونوں کے درمیان ایک آڑ (barrier) رکھ دی۔ دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں : وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا (27:61) ۔ یعنی دو سمندروں کے درمیان آڑ ڈال دیا۔ سورہ الرحمن میں یہ الفاظ ہیں: مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ - بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ (55:19-20) - یعنی، اس نے چلائے دو دریا ملتے ہوئے دونوں کے درمیان ایک آڑ ہے، جس سے وہ تجاوز نہیں کر سکتے۔ ان آیات میں جس مظہر قدرت کا ذکر ہے ، وہ قدیم ترین زمانے سے انسان کو معلوم تھا، وہ یہ کہ دو دریاؤں کے پانی باہم مل کر بہتے ہیں تو وہ ایک دوسرے میں شامل نہیں ہو جاتے مثال کے طور پر چاٹگام (بنگلہ دیش) سے لے کر ارکان (برما) تک دو دریا مل کر بہتے ہیں، اور اس پورے سفر میں دونوں کا پانی بالکل الگ الگ نظر آتا ہے، دونوں کے بیچ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader