قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ایک دھاری سی برابر چلی گئی ہے، ایک طرف کا پانی میٹھا اور دوسری طرف کا کھاری۔ اسی طرح سمندر کے ساحلی مقامات پر جو دریا بہتے ہیں، ان میں سمندر کے اثر سے برابر مدوجزر (جوار بھاٹا) آتا رہتا ہے، مد کے وقت جب سمندر کا پانی ندی میں آجاتا ہے تو میٹھے پانی کی سطح پر کھاری پانی بہت زور سے چڑھ جاتا ہے، لیکن اس وقت بھی دونوں پانی الگ الگ رہتے، اوپر کھاری رہتا ہے، نیچے میٹھا، اس کے بعد جب جزر ہوتا ہے تو اوپر سے کھاری پانی اتر جاتا ہے، اور میٹھا پانی جوں کا توں رہتا ہے، الہ آباد میں گنگا اور جمنا کے سنگم کے مقام پر میں نے خود دیکھا کہ دونوں دریا ملنے کے باوجود الگ الگ بہتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور درمیان میں ایک لکیر مسلسل چلی گئی ہے۔ یہ بات قدیم ترین زمانے سے انسان کے مشاہدے میں آچکی ہے، مگر یہ واقعہ کس قانون فطرت کے تحت واقع ہوتا ہے، یہ ابھی حال میں دریافت کیا گیا ہے، جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ رقیق اشیا میں سطح کا تناؤ (Surface Tension) کا ایک خاص قانون ہے، اور یہی دونوں قسم کے پانی کو الگ الگ رکھتا ہے— چوں کہ دونوں سیالوں کا تناؤ (tension) مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے وہ دونوں کو اپنی اپنی حد میں رکھتا ہے۔ قرآن (55:20) نے اس فطری قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ”بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ“ (دونوں کے درمیان ایک آڑ ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھتے)۔ یہ الفاظ بول کر قرآن نے اس فطری قانون کی ایسی تعبیر کی ہے، جو قدیم مشاہدے کے اعتبار سے بھی ٹکرانے والی نہیں تھی، اور اب جدید دریافت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ برزخ (آڑ) سے مراد سطح کا تناؤ (Surface Tension) ہے، جو دونوں قسم کے پانی کے درمیان پایا جاتا ہے، اور جو دونوں کو مل جانے سے روک کے ہوئے ہے۔ سطحی تناؤ کے قانون کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھیے، اگر آپ گلاس میں پانی بھریں تو وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader