Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

كنارے تک پہنچ کر فوراً بہنے نہیں لگے گا، بلکہ ایک سوت کے بقذر اٹھ کر گلاس کے کناروں کے اوپر گولائی میں ٹھہر جائے گا، یہی وہ چیز ہے جس کو شاعر نے ’’خط پیمانہ‘‘ کہا ہے: اندازۂ ساقی تھا کس درجہ حکیمانہ ساغر سے اٹھیں موجیں بن کر خط پیمانہ گلاس کے کناروں کے اوپر پانی کی جو مقدار ہوتی ہے، وہ کیسے ٹھہرتی ہے۔ بات یہ ہے کہ رقیق اشیا کی سطح کے سالمات (Molecules) کے بعد چوں کہ کوئی چیز نہیں ہوتی اس لیے ان کا رخ اندر کی طرف ہو جاتا ہے، اس طرح کے سالمات کے درمیان کشش اتصال بڑھ جاتی ہے، اور قانون اتصال (Cohesion) کے عمل کی وجہ سے پانی کی سطح کے اوپر ایک قسم کی لچک دار جھلی (Elastic Film) سی بن جاتی ہے، اور پانی گویا اس کے غلاف میں اس طرح ملفوف ہو جاتا ہے، جیسے پلاسٹک کی سفید جھلی میں پسا ہوا نمک ملفوف ہوتا ہے، سطح کا یہی پردہ اوپر ابھرے ہوئے پانی کو روکا کرتا ہے، یہ پردہ اس حد تک قوی ہوتا ہے کہ اس کے اوپر سوئی ڈال دی جائے تو وہ ڈوبے گی نہیں، بلکہ پانی کی سطح پر تیرتی رہے گی۔ اسی کو سطح کا تناؤ (Surface Tension) کہا جاتا ہے، اور یہی وہ ’’آڑ‘‘ یا فطری قانون ہے جس کی بنا پر تیل اور پانی ایک دوسرے میں گھلتا ملتا نہیں، اور یہی وہ ’’آڑ‘‘ ہے، جس کی وجہ سے کھاری پانی اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page