Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مخالفینِ مذہب کا مقدمہ

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

کہنا بالکل غلط ہے کہ وہ آسمان کے اوپر خدا کا نشان ہے‘‘۔ ہکسلے اس قسم کے واقعات پیش کرتا ہوا کس قدر یقین کے ساتھ کہتا ہے: یعنی واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیں تو وہ مافوق الفطری اسباب کے پیدا کیے ہوئے نہیں ہو سکتے۔ 2۔ اس کے بعد نفسیات کی تحقیق کی گئی تو اس نقطہ نظر پر مزید یقین حاصل ہو گیا۔ کیوں کہ اس سے معلوم ہوا کہ مذہب، انسان کے اپنے لاشعور کی پیدا وار ہے نہ کہ فی الواقع کسی خارجی حقیقت کا انکشاف، ایک عالم کے الفاظ میں: یعنی خدا کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ کائناتی سطح پر انسان کی ہستی کا ایک خیالی انعکاس ہے، دوسری دنیا کا عقیدہ انسان کی اپنی آرزوؤں کی ایک خوبصورت تصویر (Beautiful Idealisation of Human Wishes) سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا (۱)۔ وحی الہام محض بچپن میں دبے ہوئے خیالات (childhood repressions) کا ایک غیر معمولی اظہار ہیں۔ ان تمام خیالات کی بنیاد نظریہ لاشعور پر قائم ہے۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا کہ انسان کا ذہن دو بڑے خانوں پر منقسم ہے۔ ایک خانہ وہ جس کو شعور کہتے ہیں، یہ ہمارے ان افکار کا مرکز ہے جو عام طور پر ہوش و حواس کی حالت میں شعوری طور پر ہمارے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، دوسرا خانہ لاشعور ہے۔ اس حصہ ذہن کے خیالات عام طور پر ہمارے علم و حافظہ کے (1) The Iqbal Review, (Lahore), April, 1962

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page