قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
میٹھے پانی کے دو دریا بہتے ہیں مگر ایک کا پانی دوسرے میں شامل نہیں ہوتا۔ (ب) قرآن میں آیا ہے: اَللّٰهُ الَّذِيۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا (13:2)۔ یعنی اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا، بغیر ایسے ستونوں کے جنھیں تم دیکھ سکو۔ دورِ قدیم کے انسان کے لیے یہ الفاظ اس کے ظاہری مشاہدے کے عین مطابق تھے، کیوں کہ وہ دیکھتا تھا کہ اس کے سر کے اوپر سورج، چاند اور ستاروں کی ایک دنیا کھڑی ہے، مگر کہیں اس کا پایہ اور کھمبا نظر نہیں آتا اور اب جدید ترین معلومات رکھنے والے انسان کے لیے بھی اس میں مکمل معنویت موجود ہے، کیوں کہ جدید ترین مشاہدہ بتاتا ہے کہ اجرامِ سماوی ایک لامحدود خلا میں بغیر کسی سہارے کے قائم ہیں، اور ایک "عمدِ غیر مرئی"، یعنی کششِ ثقل (gravitational pull) ان کو بالائی فضا میں سنبھالے ہوئے ہے۔ (ج) اسی طرح سورج اور تمام ستاروں کے بارے میں کہا گیا ہے: كُلٌّ فِيۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ (21:33)۔ یعنی سب کے سب ایک آسمان میں تیر رہے ہیں۔ دورِ قدیم میں بھی انسان اجرامِ سماوی کو حرکت کرتا ہوا دیکھتا تھا، اس لیے ان الفاظ سے اس کو توحش نہیں ہوا، مگر جدید معلومات نے ان الفاظ کو اور زیادہ بامعنی بنا دیا ہے، بسیط اور لطیف خلا میں اجرامِ سماوی کی گردش کے لیے "تیرنے" سے بہتر کوئی تعبیر نہیں ہو سکتی۔ (د) رات اور دن کے متعلق قرآن میں ہے: يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا (7:54)۔ یعنی اللہ دوڑاتا ہے رات پر دن کہ وہ اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا۔ یہ الفاظ قدیم انسان کے لیے صرف رات دن کی ظاہری آمدورفت کو بتاتے تھے، مگر اس میں نہایت عمدہ اشارہ زمین کی محوری گردش کی طرف بھی موجود ہے، جو جدید مشاہدے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader