مذہب اور جدید چیلنج
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مطابق رات اور دن کی تبدیلی کی اصل وجہ ہے، یہاں میں یاد دلاؤں گا کہ روس کے پہلے خلائی مسافر نے خلا سے واپسی کے بعد اپنے جو مشاہدات بیان کیے تھے، اس میں ایک یہ بھی تھا کہ زمین کو اس نے اس شکل میں دیکھا کہ سورج کے سامنے محوری گردش کی وجہ سے اس کے اوپر اندھیرے اور اجالے کی آمد و رفت کا ایک تیز تسلسل (rapid succession) جاری تھا۔ اس طرح کے بیانات قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ دوسری مثالیں وہ ہیں، جن کے متعلق پچھلے زمانے کے لوگ قطعاً کوئی معلومات نہیں رکھتے تھے۔ قرآن نے ان کا ذکر کیا، اور ایسی باتیں کہیں جو حیرت انگیز طور پر جدید انکشافات سے صحیح ثابت ہوتی ہیں، یہاں میں مختلف علمی شعبوں سے اس کی چند مثالیں پیش کروں گا۔ فلکیات قرآن میں کائنات کے آغاز و انجام کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ تصور سو برس پہلے تک انسان کے لیے بالکل نامعلوم تھا اور نزول قرآن کے زمانے میں تو اس کا تصور بھی کسی ذہن میں نہیں گزر سکتا تھا۔ مگر جدید مطالعہ نے حیرت انگیز طور پر اس کی تصدیق کی ہے، آغاز کائنات کے بارے میں قرآن کا بیان یہ ہے: أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا (21:30)۔ یعنی کیا منکرین نہیں دیکھتے کہ زمین و آسمان دونوں ملے ہوئے (منضم الاجزاء) تھے، پھر ہم نے اس کو پھاڑ دیا۔ اس کا انجام یہ بتایا گیا ہے: يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ (21:104)۔ یعنی، اس دن لپیٹ دیں گے ہم آسمان کو جیسے لپیٹتے ہیں طومار (scroll) میں کاغذ۔ ان الفاظ کے مطابق کائنات ابتدا میں ایک سمٹی ہوئی حالت میں تھی، اور اس کے بعد پھیلنا شروع ہوئی، اس پھیلاؤ کے باوجود اس کا اصل مادہ اتنا کم ہے کہ تھوڑی سی جگہ میں اس کو دوبارہ سمیٹا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader