Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

فلکیات

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات کے بارے میں جدید ترین تصویر یہی ہے، مختلف قرائن اور مشاہدات کی بنیاد پر سائنسداں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ابتدا میں کائنات کا مادہ جامد اور سکون کی حالت میں تھا (۱)۔ یہ ایک بہت ہی سخت سکڑی ہوئی اور گھٹی ہوئی انتہائی گرم گیس تھی، تقریباً پچاس کھرب سال پہلے ایک زبردست دھماکے سے وہ پھٹ پڑی اور اس کے ساتھ ہی اس کے ٹوٹے ہوئے اجزاء چاروں طرف پھیلنے لگے، جب ایک بار پھیلاؤ شروع ہو گیا تو اس کا جاری رہنا لازمی تھا، کیوں کہ اجزائے مادہ جیسے جیسے دور ہوں گے، ان کا باہمی کشش کا اثر ایک دوسرے پر کم ہوتا جائے گا، آغاز میں کائنات کا جو مادہ تھا، اس کے مکانی دائرہ کا اندازہ تقریباً ایک ہزار ملین سال نور ہے اور اب پروفیسر ایڈنگٹن کے اندازے کے مطابق وہ سابقہ دائرہ کے مقابلے میں تقریباً بیس گنا بڑھ چکا ہے۔ یہ عمل توسیع مسلسل جاری ہے، پروفیسر ایڈنگٹن کے الفاظ میں۔” ستاروں اور کہکشاؤں کی مثال ایک ایسے ربڑ کے غبارے کی سطح کے نشانات کی سی ہے جو مسلسل پھیل رہا ہو، اسی طرح اپنی ذاتی حرکت کے ساتھ تمام خلائی کرے کا ئناتی پھیلاؤ کے ساتھ ہر آن دور ہوتے جا رہے ہیں“: ‘We can picture the stars and galaxies,’ says Professor (۱) امریکن اسپیس ایجنسی ناسا کے مطابق: How Big is the Universe: No one knows if the universe is infinitely large, or even if ours is the only universe there is. Although our view of the universe is limited, our imaginations are not. Astronomers have indirect evidence that the universe of galaxies extends far beyond the region we can see. But no one knows if the whole universe is infinitely large-large beyond limit. According to the leading theories, other parts of the universe may look very different from our own-and may even have different laws of nature. We may never be able to find out for sure. But it is possible that clues to the answer lie in plain view, just waiting to be discovered! https://t.ly/IF0e (accessed: 30.03.2021)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page