فلکیات
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
Eddington, 'as embedded in the surface of a rubber balloon which is being steadily inflated; so that apart from their individual motions and the effects of their ordinary gravitational attraction on one another, celestial objects are becoming farther and farther apart simply by the inflation. The Limitations of Science, 1938, England, p. 27 دوسری بات بھی جدید ترین مطالعہ سے کائنات کے ڈھانچے کے عین مطابق ثابت ہوئی ہے، قدیم انسان یہ سمجھتا تھا کہ ستارے اتنے ہی فاصلوں پر ہیں جیسے کہ وہ بظاہر نظر آتے ہیں، مگر اب معلوم ہوا کہ وہ دوری کی وجہ سے قریب قریب دکھائی دیتے ہیں، ورنہ وہ ایک دوسرے سے بے انتہا بعید فاصلے پر واقع ہیں، اور یہی نہیں بلکہ وہ اجسام جو بظاہر سالم نظر آتے ہیں، ان کا بھی ایک بڑا حصہ درحقیقت خلا ہے، جس طرح شمسی نظام میں بہت سارے سیارے اور سیارچے ایک دوسرے سے دور دور فاصلوں پر رہتے ہوئے ایک نظام کے تحت گردش کرتے ہیں، اسی طرح ہر مادی جسم چھوٹے پیمانے کے بے شمار شمسی نظاموں کا مجموعہ ہے، جن کو "ایٹم" کہتے ہیں۔ نظام شمسی کا خلا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں، مگر ایٹمی نظام کا خلا، انتہائی چھوٹا ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آتا۔ گویا ہر چیز، خواہ وہ بظاہر ٹھوس نظر آرہی ہو، اندر سے کھوکھلی ہے۔ مثلاً چھ فٹ لمبے چوڑے انسان کا جسم جن ایٹموں کا مجموعہ ہے، ان کے الیکٹران اور پروٹان کو اگر اس طرح ملا دیا جائے کہ ان کے درمیان خلا یا مکان (Space) باقی نہ رہے تو اس کی حقیقت صرف ایک ایسے دھبہ (spot) کی ہوگی، جس کو صرف خورد بین (microscope) سے دیکھا جاسکے۔ اسی طرح فلکی طبیعیات کے ماہرین (Astrophysicists) نے کائنات میں پھیلے ہوئے پورے مادہ کا حساب لگایا ہے، ان کا کہنا ہے: "If all this were squeezed without leaving any space, the size of the universe will be only thirty times the size of the sun."

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader