Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

فلکیات

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی اگر سارے کائنات کو اس طرح سمیٹ دیا جائے کہ اس میں خلاباقی نہ رہے تو سب کا حجم موجودہ سورج سے صرف 30 گنا زیادہ ہوگا، جب کہ کائنات کی وسعت کا یہ حال ہے کہ شمسی نظام سے بعید ترین کہکشاں جواب تک دیکھی جاچکی ہے، وہ سورج سے کئی ملین سال نور کے فاصلے پر واقع ہے۔ دورِ جدید کے ماہرین فلکیات (astronomers) اپنے مشاہدات (observations) اور ریاضیاتی اندازے (mathematical estimate) کی بنا پر اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ اجرام سماوی (astronomical object) جس قانون کے تحت گردش کر رہے ہیں، اس کے مطابق مستقبل میں ایک وقت آنے والا ہے، جب چاند زمین کے بہت قریب آجائے گا، اور دو طرفہ کشش کی تاب نہ لا کر پھٹ جائے گا اور اس کے ٹکڑے زمین کے گرد فضا میں پھیل جائیں گے۔ Man does not Stand Alone, p.34 ”شقِ قمر“ کا یہ واقعہ اسی قانون کشش کے تحت ہوگا، جس کا مظاہرہ جوار بھاٹے کی شکل میں سمندروں میں ہوتا رہتا ہے، چاند بالائی فضا میں ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے، یعنی زمین سے اس کا فاصلہ صرف دولاکھ چالیس ہزار میل ہے، اس قربت کی وجہ سے اس کی کشش کا اثر سمندروں پر پڑتا ہے، اور دن میں دو بار پانی اوپر اٹھ کر غیر معمولی تموج پیدا کرتا ہے، یہ موجیں بعض مقامات پر ساٹھ فٹ کے قریب اوپر تک اٹھ جاتی ہیں، اور خشکی کی سطح بھی اس قمری کشش سے چند انچ تک متاثر ہوتی ہے۔ چاند اور زمین کا موجودہ فاصلہ بہت مناسب مقدار پر ہے، اور اس کے بہت سے فوائد ہیں، اس کے بجائے اگر یہ فاصلہ گھٹ جائے مثلاً پچاس ہزار میل پر آ جائے تو سمندروں میں اس شدت سے طوفان برپا ہو کہ خشکی کا بیشتر حصہ اس میں غرق ہو جائے اور طوفانی موجوں کے مسلسل ٹکراؤ سے پہاڑ کٹ کر ریزے ریزے ہو جائیں، اور زمین اس کی کشش سے پھٹنے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page