فلکیات
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
ماہرین فلکیات کا اندازہ ہے کہ زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت چاند اسی طرح زمین کے قریب تھا، اور اس وقت زمین کی سطح پر یہ سب کچھ ہو چکا ہے، اس کے بعد فلکیاتی قانون نے اسے موجودہ دوری پر پہنچادیا، ان کا خیال ہے کہ ایک بلین سال تک یہ صورت باقی رہے گی، اور اس کے بعد یہی فلکی قانون دوبارہ چاند کو زمین کے قریب لائے گا، اور اس وقت زمین اور چاند کی باہمی کشش کا نتیجہ یہ ہو گا کہ چاند پھٹ جائے گا اور ٹکڑے ہو کر زمین کے گرد ایک حلقہ کی شکل میں پھیل جائے گا۔ یہ نظریہ حیرت انگیز طور پر اس پیشین گوئی کی تصدیق ہے، جو قرآن میں آیا ہے، یعنی قیامت جب قریب آئے گی تو چاند پھٹ جائے گا اور اس کا پھٹنا قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہوگا (1) ۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں : اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ٠ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ (54:1-2) یعنی، قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور یہ لوگ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ (1) شق قمر کا مسئلہ قدیم مفسرین و متکلمین سے لے کر اب تک شدید بحث کا موضوع رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قیامت کے قریب ہوگا (قَالَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ الْمُرَادُ سَيَنْشَقُّ، تفسير كبير، جلد 29، صفحہ 288)۔ اس دوسرے گروہ میں امام حسن بصری بھی شامل ہیں جن کا قول ابوحیان اندلسی نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے : اِذَا جَاءَتِ السَّاعَةُ انْشَقَّ الْقَمَرُ بَعْدَ النَّفْخَةِ الثَّانِيَة (البحر المحيط، جلد 10، صفحہ 33) ۔ یعنی اقتربت الساعة وانشق القمر کا مطلب یہ ہے کہ جب قیامت قریب آئے گی تو چاند پھٹ جائے گا اور یہ واقعہ دوسری بار صور پھونکے جانے کے بعد ہوگا۔ ابو منصور الماتریدی نے اپنی تفسیر میں یہ قول نقل کیا ہے لَمْ يَكُنْ انشقاق القمر بعد، ولكن يكون في المستقبل، وعند قيام الساعة (تفسير الماتريدي، جلد 9، صفحہ 441)۔ یعنی شق قمر کا واقعہ ابھی تک پیش نہیں آیا ہے، یہ مستقبل میں پیش آئے گا، جب قیامت آئے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader