Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

ارضیات

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

ارضیات پہاڑوں کے بارے میں قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کہا گیا ہے کہ وہ زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ہیں، مثلاً فرمایا: وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِیدَ بِكُمْ (31:10)۔ یعنی اور زمین میں پہاڑ بنا دیے، تا کہ زمین تم کو لے کر جھک نہ پڑے۔ ان الفاظ کے نزول کے پورے تیرہ سو برس تک انسانی علم پہاڑوں کی اس حیثیت کے بارے میں بالکل بے خبر تھا۔ مگر اب جغرافیہ اس سے آشنا ہو چکا ہے، اور جدید جغرافیائی اصطلاح میں اس کو توازن (Isostasy) کہا جاتا ہے اگرچہ اس سلسلے میں انسان کا علم ابھی ابتدائی منزل میں ہے، تاہم انگن کے الفاظ میں ’’ یہ سمجھا جاتا ہے کہ زمین کی سطح پر جو ہلکا مادہ تھا، وہ پہاڑوں کی شکل میں ابھرا آیا اور جو بھاری مادہ تھا، وہ گہری خندقوں کی صورت میں دب گیا جن میں اب سمندر کا پانی بھرا ہوا ہے، اس طرح ابھار اور دبائو نے مل کر زمین کا توازن برقرار رکھا ہے۔‘‘ O. R. Van Engeln, Geomorphology, New York 1948, p.26-27 ایک اور مصنف لکھتا ہے: ’’جیسے خشکی پر وادیاں ہیں، اسی طرح سمندر کے نیچے بھی وادیاں ہیں، مگر سمندر کی تہہ کی اکثر وادیاں زیادہ گہری اور انسان کے تجرباتی دائرہ کے لحاظ سے بہت دور ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی غیر معمولی دبائو سے سمندروں میں گہرے غار ہو گئے ہیں۔ یہ وادیاں سمندر سے 35 ہزار فٹ تک گہری ہیں، یہ گہرائی کسی بھی پہاڑ کی بلندی سے زیادہ ہے، بعض مقامات پر یہ گھاٹیاں اتنی گہری ہیں کہ اگر زمینی پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی ماونٹ ایورسٹ کو جو 29031.7 فٹ بلند ہے، وہاں ڈال دیا جائے تو اس کے اوپر ایک میل کی اونچائی تک پانی بہتا رہے گا۔ حیرت یہ ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page