ارضیات
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ یہ سمندری خندقیں (oceanic trenches) دو سمندر کے درمیان واقع ہونے کے بجائے خشکی کے قریب قریب پائی جاتی ہیں، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کون سا عظیم دباؤ تھا، جس نے سمندر کی تہہ میں یہ زبردست غار پیدا کر دیے، مگر جزائری سلسلوں اور آتش فشاں پہاڑوں سے ان کی قربت ظاہر کرتی ہے کہ پہاڑی بلندیوں اور سمندری خندقوں میں کوئی باہمی تعلق ہونا چاہیے، گویا کہ زمین اونچائی اور گہرائی کے ذریعہ اپنے توازن (balance) کو قائم رکھتی ہے، جغرافیہ کے بعض مستند علما کا خیال ہے کہ سمندری گہرائیاں آئندہ ابھرنے والے خشکی کی علامتیں ہوسکتی ہیں، کیوں کہ پانی کے نیچے ان اندھیرے غاروں میں صدیوں سے بہہ بہہ کر خشکی اور سمندر کی تہہ کی گاد (sediment) تہہ بہ تہہ جمع ہورہی ہے، اور میلوں پاٹی چلی جارہی ہے، اس لیے کسی وقت عدم توازن کی بنا پر ہوسکتا ہے کہ سمندر کے نیچے اتھاہ گہرائیوں میں جمع ہونے والے مادے کا دباؤ پڑنے سے نئے پہاڑ ابھر آئیں یا نئے جزائری سلسلے پیدا ہوجائیں، ساحل کے بعض پہاڑوں میں اس طرح کی سمندری گاد کے نشانات پائے جاتے ہیں، مگر انسان کی موجودہ معلومات کے دائرے میں کوئی بھی نظریہ سمندری خندقوں کی مکمل توجیہ نہیں کرتا، یہ دائمی سرد اور دائمی تاریک غار جو فی مربع انچ سات ٹن بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں، وہ ابھی انسان کے لیے سمندر کے دوسرے معموں میں سے ایک معما ہیں۔‘‘ The World We Live In, New York 1965 اسی طرح قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ زمین پر ایک وقت ایسا گزرا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پھاڑ کر پھیلا دیا : وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا ۔ أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا (79:30-31)۔ یعنی اس کے بعد خدا نے زمین کو پھیلا یا اور اس میں سے اس کا پانی اور چارہ نکالا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader