Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

ارضیات

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ الفاظ جدید ترین نظریہ انتشار براعظم (Theory of Drifting Continents) کے عین مطابق ہیں، اس نظریہ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے تمام براعظم کسی زمانے میں ایک بڑی زمین کے حصے تھے، اس کے بعد وہ پھٹ کر سطح زمین پر ادھر ادھر پھیل گئے اور بھرے ہوئے سمندروں کے اردگرد براعظموں کی ایک دنیا آباد ہوگئی۔ اس نظریے کو پہلی بار باقاعدہ طور پر 1915ء میں ایک جرمن ماہر ارضیات الفریڈ ویگنر (Alfred Wegener) نے پیش کیا، اس کی دلیل یہ تھی کہ براعظموں کو اگر قریب کیا جائے تو وہ سب کے سب جگساپزل (Jigsaw Puzzle) کی طرح آپس میں جڑ جاتے ہیں۔ مثلاً جنوبی امریکا کا مشرقی ساحل افریقہ کے مغربی ساحل سے مل رہا ہے۔ اس قسم کی اور بھی بہت سے مشاہبتیں ہیں جو وسیع سمندروں کے دونوں طرف پائی گئی ہیں۔ مثلاً ایک قسم کے پہاڑ یکساں ارضیاتی سال کی چٹانیں، ایک قسم کے جانور اور مچھلیاں اور ایک طرح کے پودے۔ چنانچہ علم نباتات کا ماہر پروفیسر رونالڈ گڈ (Ronald Good) اپنی کتاب میں لکھتا ہے: ”نباتات کے ماہرین کا تقریباً متفقہ نظریہ ہے کہ مختلف پودے جو زمین کے مختلف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page