Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

ارضیات

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

حصوں میں پائے جاتے ہیں، ان کی توجیہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ ہم یہ فرض کریں کہ زمین کے ٹکڑے ماضی میں کبھی باہم ملے ہوئے تھے۔‘‘ Geography of the Flowering Plants اب توجری کشش (Fossil Magnetism) سے تصدیق حاصل ہونے کے بعد اس کو قطعی سائنسی نظریہ کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، پتھر کے ذرات کے رخ کا مطالعہ کر کے یہ معلوم کر لیا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم میں اس کی چٹان کا عرض البلد اور طول البلد کیا تھا، اس مطالعہ سے معلوم ہوا کہ زمین کے موجودہ ٹکڑے ماضی میں ان مقامات پر نہیں تھے، جہاں وہ آج نظر آتے ہیں، بلکہ ٹھیک ان مقامات پر تھے، جہاں براعظموں کے انتشار کا نظریہ تقاضا کرتا ہے، امپیریل کالج (لندن) میں فزکس کے استاد پروفیسر پی۔ ایم۔ ایس۔ بلیکٹ (Patrick Maynard Stuart Blackett, 1897-1974) نے کہا ہے: ’’ہندوستانی پتھر کی پیمائش یقینی طور پر بتاتی ہے کہ 70 ملین سال پہلے ہندوستان خط استوا کے جنوب میں واقع تھا، جنوبی افریقہ کی چٹانوں کا مشاہدہ ثابت کرتا ہے کہ افریقی براعظم تین سو ملین سال پہلے قطب جنوبی سے ٹوٹ کر نکلا ہے۔‘‘ (ریڈرز ڈائجسٹ، جون 1961ء) اوپر ہم نے جو آیت نقل کی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے ’’دَحْو‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ دحو کے معنی کسی مجتمع چیز کو پھیلانے اور بکھیر دینے کے ہیں، عربی میں کہا جاتا ہے: دَحَا الْمَطَرُ الْحَصَىٰ عَنْ وَجْهِ الْأَرْضِ‘‘ (معجم مقائیس اللغۃ لابن فارس، جلد 2، صفحہ 333) یعنی بارش زمین پر سے کنکریوں کو بہالے گئی۔ تقریباً یہی مفہوم انگریزی لفظ (drift) کا بھی ہے، جو اس جغرافی نظریے کی تعبیر کے لیے موجودہ زمانے میں اختیار کیا گیا ہے، قدیم ترین ماضی اور حال میں اس حیرت انگیز یکسانیت کی توجیہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ ایسی ہستی کا کلام ہے، جس کا علم ماضی اور حال سب پر محیط ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page