مخالفینِ مذہب کا مقدمہ
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
سامنے نہیں ہوتے مگر وہ اس کی تہ میں موجود رہتے ہیں، اور غیر معمولی حالات میں یا سوتے وقت خواب میں ظاہر ہوتے ہیں، انسان کے بیشتر خیالات اسی لاشعور کے خانے میں جا کر محفوظ ہو جاتے ہیں، اور اس اعتبار سے ذہن کا شعوری حصہ اس کے لاشعور سے بہت کم ہے۔ چنانچہ دونوں کا تناسب ظاہر کرنے کے لیے سمندر کے برفانی تودہ (iceberg) کی مثال دی جاتی ہے، جس کے نو حصے کیے جائیں تو آٹھ حصے پانی میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور صرف ایک حصہ اوپر دیکھنے والوں کو نظر آئے گا (اگرچہ یہ تناسب بھی اضافی ہے)۔ فرائڈ نے طویل تحقیق کے بعد انکشاف کیا کہ بچپن میں انسان کے لاشعور میں کچھ ایسی چیزیں بیٹھ جاتی ہیں ، جو بعد میں غیر عقلی رویے کا باعث بنتی ہیں۔ یہی صورت مذہبی عقائد کی ہے، مثلاً دوسری دنیا اور جنت کا تصور دراصل ان آرزوؤں کی صدائے بازگشت ہے، جو بچپن میں آدمی کے ذہن میں پیدا ہوئیں ، مگر حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے پوری نہیں ہوئیں اور دب کر لاشعور میں باقی رہ گئیں ۔ بعد کو لاشعور نے اپنی تسکین کے لیے ایک ایسی دنیا فرض کر لی جہاں وہ اپنی آرزوؤں کی تکمیل کر سکے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی شخص اپنی ایک محبوب چیز کو واقعی دنیا میں نہ پاسکا تو وہ نیند کی حالت میں خواب دیکھتا ہے کہ وہ اس سے ہم کنار ہو رہا ہے۔ اسی طرح بچپن کی بہت سے باتیں جو لاشعور میں تہ نشیں ہو کر بظاہر حافظہ سے نکل گئی تھیں، وہ غیر معمولی حالات مثلاً جنون یا ہسٹریا میں یکا یک زبان پر جاری ہو گئیں تو سمجھ لیا گیا کہ یہ کوئی ماورائی طاقت ہے جو انسان کی زبان سے کلام کر رہی ہے۔ اسی طرح بڑے اور چھوٹے کے فرق (father complex) نے خدا اور بندے کا تصور پیدا کیا، اور جو چیز محض ایک سماجی برائی تھی، اس کو کائناتی سطح پر رکھ کر ایک نظریہ گڑھ لیا گیا۔ لنٹن (Ralph Linton) لکھتا ہے: ”ایک ایسے قادر مطلق کا تصور جس کے کام خواہ کتنے ہی غیر منصفانہ معلوم ہوں مگر وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader