غذائیت
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
غذائیات کتاب الہی میں انسان کے لیے جو مینیو (menu) بتایا گیا ہے، اس کے مطابق خون ہمارے لیے حرام ہے (مثلاً دیکھیے، البقرہ، 2:173)۔ نزولِ کتاب کے وقت تک انسان اس قانون کی غذائی اہمیت سے بے خبر تھا، لیکن بعد کو جب سائنسی طور پر خون کے اجزاء کی تحلیل کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ قانون نہایت اہم مصلحت پر مبنی تھا، سائنسی تجزیہ نے اس کو رد نہیں کیا بلکہ اس کی معنویت ہم پر واضح کی۔ یہ تجزیہ بتاتا ہے کہ خون میں کثرت سے یورک ایسڈ (Uric Acid) موجود ہے، جو ایک تیزابی مادہ ہونے کی وجہ سے خطرناک زہریلی تاثیر اپنے اندر رکھتا ہے، اور غذا کے طور پر اس کا استعمال سخت مضر ہے، ذبیحہ کا مخصوص طریقہ جو اسلام میں بتایا گیا ہے، اس کی مصلحت بھی یہی ہے، اسلامی اصطلاح میں ذبیحہ سے مراد جانور کو خدا کے نام پر ایسے طریقہ سے ذبح کرنا ہے، جس سے اس کے جسم کا سارا خون نکل جائے، اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ جانور کی صرف شہ رگ کو کاٹا جائے لیکن گردن کی رگوں کو قائم رکھا جائے تاکہ مذبوحہ کے دل اور دماغ کے درمیان موت تک تعلق قائم رہے، اور جانور کی موت کا باعث صرف اخراج خون ہو، نہ کہ کسی اعضائے رئیسہ (vital organ) پر صدمہ (injury) کا پہنچنا۔ کیوں کہ کسی اعضائے رئیسہ مثلاً دماغ، دل یا جگر کے صدمہ رسیدہ ہونے سے فوراً موت آجاتی ہے۔ لیکن ایسی صورت میں خون جسم کے اندر ہی جم جاتا ہے۔ اس طرح جمیے ہوئے خون کے ساتھ سارا گوشت یورک ایسڈ کی وجہ سے آلودہ (polluted) ہو جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں سور کو بھی حرام کیا گیا ہے (مثلاً دیکھیے، البقرہ، 2:173)۔ زمانۂ قدیم میں انسان کو اس کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہ تھا، مگر جدید طبی تحقیقات نے بتایا ہے کہ اس کے اندر بہت سے نقصانات ہیں، مثلاً مذکورہ بالا یورک ایسڈ جو ایک زہریلا مادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader