مذہب اور تمدنی مسائل
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
ادنی شخص(political inferior) کے لیے نافذ کیا۔‘‘ Law is what is imposed by a superior on an inferior, be that superior the king or the legislature. (A Textbook of Jurisprudence, p. 56) جان بینٹن کے مطابق ، اس تعریف میں قانون بس ایک صاحب اقتدار کا فرمان (Command of the Sovereign) بن کر رہ گیا ہے۔ G. W. Paton, A Textbook of Jurisprudence, p. 6 چنانچہ اس پر شدید اعتراضات کیے گئے۔ نیز حکمرانوں کی بدعنوانی دیکھ کر ذہنوں میں یہ تصور ابھرا کہ قانون سازی میں عوام کی مرضی کو بھی جگہ ملنی چاہیے ۔ ایسے علمائے قانون پیدا ہوئے جنھوں نے کسی ایسے ضابطہ وقاعدہ کو قانون تسلیم کرنے سے انکار کیا جس کی پشت پر قوم کی رضامندی نہ ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک ضابطہ تمام اہل علم اور معلمین اخلاق کے نزدیک صحیح اور مفید ہونے کے باوجود محض اس لیے رائج نہیں کیا جاسکتا تھا، کیوں کہ رائے عامہ اس کے خلاف ہے۔ مثلاً امریکا میں شراب کی پابندی کے قانون کو امریکی قوم کی رضامندی نہ ملنے کی وجہ سے قانون کی حیثیت حاصل نہ ہوسکی۔ اسی طرح برطانیہ میں قتل کی سزا میں ترمیم کرنی پڑی اور ہم جنسی جیسی قبیح حرکت کے لیے قانونی طور پر اجازت دینی پڑی۔ حالانکہ ملک کے سنج اور سنجیدہ لوگ اس کے خلاف تھے۔ اسی طرح یہ بات بھی زبردست بحث کا موضوع رہی ہے کہ قانون قابل تغیّر ہے یا نا قابل تغیّر ـــــ قرونِ وسطیٰ اور زمانہ ماقبل تجدید (Post Renaissance Period) میں قانون طبعی یا قانونِ فطرت کو کافی فروغ حاصل ہوا، اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان کی جو فطرت ہے، وہی قانون کا بہترین ماخذ ہے : ”فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شے پر حکومت کا حق خود اسی کے فطری تقاضوں اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader