مذہب اور تمدنی مسائل
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
”ر اسکوپائونڈ ایک ایسی بات کہتا ہے جس کی صداقت پر میں اپنے تمام تجربات اور قانونی مطالعہ کے نتیجے میں بالکل مطمئن ہو چکا ہوں، وہ یہ قانون کا ابتدائی اور بنیادی مقصد عدل کی تلاش (Quest of Justice) ہے۔“ Interpretation of Modern Legal Philosophies, NY, 1947, p. 794 مگر یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انصاف کیا ہے، اور اس کو کیسے متعین کیا جا سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بات گھوم پھر کر دوبارہ وہیں پہنچ جاتی ہے، جہاں آسٹن کو ہم نے چھوڑا تھا، اس طرح سیکڑوں برس کی تلاش و تحقیق کے باوجود انسان اب تک قانون کی تشکیل کے لیے کوئی واقعی بنیاد فراہم نہ کر سکا۔ یہ احساس روز بروز بڑھ رہا ہے کہ جدید فلسفہ، مقاصد قانون کے اہم مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پروفیسر پیٹن (George Whitecross Paton) لکھتے ہیں: ”کیا مفادات (interests) ہیں جن کا تحفظ ایک معیاری قانونی نظام کو کرنا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے، جو اقدار (values) سے متعلق ہے، اور وہ فلسفۂ قانون کے دائرۂ بحث میں آتا ہے، مگر اس معاملے میں ہم فلسفہ سے جتنی زیادہ مدد لینا چاہتے ہیں اتنا ہی اس کا حصول مشکل ہوتا ہے، کوئی بھی قابل قبول پیمانہ اقدار (Scale of Values) اب تک دریافت نہیں ہو سکا ہے، در حقیقت صرف مذہب ہی میں ایسا ہے کہ ہم اس کی ایک بنیاد پا سکتے ہیں، مگر مذہب کی صداقتیں عقیدہ یا وجدان کے تحت قبول کی جاتی ہیں، نہ کہ منطقی استدلال کی بنیاد پر۔“ A Textbook of Jurisprudence, p.104 آگے وہ کچھ علمائے قانون کا یہ خیال نقل کرتا ہے کہ وہ مدتوں فلسفہ قانون کی بھول بھلیوں میں گردش کرنے کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ فلسفۂ قانون کے مقصد کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader