مذہب اور تمدنی مسائل
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
فلسفیانہ مطالعہ کی جو کوشش کی ہے، وہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچتی۔ (صفحہ 106) پھر وہ سوال کرتا ہے کہ’’ کیا کچھ معیاری اقدار(ideal values) ہیں، جو ارتقائے قانون میں اس کی رہنمائی کرتی ہیں۔‘‘ (صفحہ 108) ایسی اقدار اگر چہ اب تک دریافت نہیں ہو سکیں لیکن وہ قانون کے لیے ناگزیر ہیں، مگر دقت یہ ہے کہ مذہب کو الگ کرنے کے بعد اس کے حصول کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، اس کے الفاظ یہ ہیں: The Orthodox Natural Law Theory based its absolutes on the revealed truths of religion.If we attempt to secularise jurisprudence, where can we find an agreed basis of values. (A Textbook of Jurisprudence, p.109) یہ طویل تجربہ انسان کو دوبارہ اسی طرف لوٹنے کا اشارہ کرتا ہے، جہاں سے اس نے انحراف کیا تھا، قدیم زمانے میں قانون کی تدوین و تشکیل میں مذہب کا بہت بڑا حصہ ہوتا تھا، چنانچہ تاریخ قانون کا ماہر سرہنری مین (Sir Henry Maine) لکھتا ہے: ’’تحریری طور پر منضبط قانون کا کوئی ایسا نظام، چین سے پیرو(Peru) تک ہمیں نہیں ملتا جو اپنے دور آغاز ہی سے مذہبی رسوم و عبادات کے ساتھ ہم رشتہ نہ رہا ہو۔‘‘ Early Law and Custom, p.5 اب وقت آ گیا ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ خدا کی رہنمائی کے بغیر انسان خود اپنے لیے قانون وضع نہیں کرسکتا، لاحاصل کوشش کو مزید جاری رکھنے کے بجائے اب ہمارے لیے بہتر ہوگا کہ، ڈاکٹر فرائڈمین کے الفاظ میں، ہم اعتراف کر لیں کہ: ’’ان مختلف کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ انصاف کے حقیقی معیار کو معین کرنے کے لیے مذہب کی رہنمائی حاصل کرنے کے سوادوسری ہر کوشش بے فائدہ ہوگی، اور انصاف کے مثالی تصور کو عملی طور پر متشکل کرنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader