Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مذہب اور تمدنی مسائل

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے مذہب کی دی ہوئی بنیاد بالکل منفرد طور پر حقیقی اور سادہ بنیاد ہے۔“ Legal Theory, p.450 مذہب کے اندر ہم کو وہ تمام بنیادیں نہایت صحیح شکل میں مل جاتی ہیں، جو ایک معیاری قانون کے لیے ماہرین تلاش کر رہے ہیں، مگر وہ اب تک اسے نہ پا سکے۔ 1۔ قانون کا سب سے پہلا اور لازمی سوال یہ ہے کہ قانون کون دے، وہ کون ہو جس کی منظوری (sanction) سے کسی قانون کو قانون کا درجہ عطا کیا جائے، ماہرین قانون اب تک اس سوال کا جواب حاصل نہ کر سکے، اگر حاكم کو بحیثیت حاكم یہ مقام دیں تو نظری طور پر اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ ایک یا چند اشخاص کو دوسرے تمام لوگوں کے مقابلے میں یہ امتیازی حق کیوں دیا جائے کہ وہ جو چاہے، قانون بنائے اور جس طرح چاہے نافذ کرے، اور اگر معاشرہ اور اجتماع کو” قانون ساز“ قرار دیں تو یہ اور زیادہ مہمل بات ہے، کیوں کہ معاشرہ بحیثیت مجموعی وہ علم وعقل ہی نہیں رکھتا جو قانون سازی کے لیے ضروری ہے، قانون بنانے کے لیے بہت سی مہارتوں اور واقفیتوں کی ضرورت ہے جس کی نہ عام لوگوں میں صلاحیت ہوتی ہے، اور نہ ان کو اتنا موقع ہوتا ہے کہ وہ ان میں درک حاصل کر سکیں، اسی طرح عملاً بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ معاشرہ کی کوئی ایسی رائے معلوم کی جا سکے جو سارے معاشرہ کی اپنی رائے ہو۔ موجودہ زمانے میں اس مسئلے کا یہ حل نکالا گیا ہے کہ پوری آبادی کے عاقل اور بالغ افراد اپنے نمائندے منتخب کریں اور یہ منتخب لوگ اجتماع کے نمائندے کی حیثیت سے اجتماع کے لیے قانون بنائیں، مگر اس اصول کی غیر معقولیت اسی سے ظاہر ہے کہ 51 فیصد کو صرف دو عدد کی اکثریت کی بنا پر یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ 49 فیصد کی نام نہاد اقلیت پر حکمرانی کریں، مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس طریقے کے اندر اتنے خلا ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page