Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مذہب اور تمدنی مسائل

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ عموماً 51 فیصد کی اکثریت بھی حاصل نہیں ہوتی اور مطلق اقلیت کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اکثریت کے اوپر حکومت بنائے۔ اس طرح فلسفۂ قانون کو آج تک اس مسئلے کا کوئی واقعی حل معلوم نہ ہوسکا، مذہب اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ قانون کا ماخذ خدا ہے، جس نے زمین و آسمان کا اور ساری طبعی دنیا کا قانون مقرر کیا ہے، اسی کو حق ہے کہ وہ انسان کے تمدن و معاشرت کا قانون وضع کرے، اس کے سوا کوئی بھی نہیں ہے، جس کو یہ حیثیت دی جاسکے، یہ جواب اتنا سادہ اور معقول ہے کہ وہ خود ہی بول رہا ہے کہ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی اور جواب نہیں ہوسکتا، یہ جواب اس سوال پر اسی طرح بالکل راست آ رہا ہے، جیسے کوئی ڈھکن غلط شیشیوں پر بیٹھ نہ رہا ہو، اور جیسے ہی اس کے اصل مقام پر اسے لایا جائے وہ ٹھیک ٹھیک اس پر بیٹھ جائے۔ اس جواب میں قانون بنانے اور حکم دینے کا حق ٹھیک اس جگہ پہنچ گیا جہاں نہ پہنچنے کی وجہ سے ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہم اس کو کہاں لے جائیں، انسانوں کے اوپر انسان کو حاکم اور قانون ساز نہیں بنایا جاسکتا، اس کا حق صرف اسی کو ہے جو سارے انسانوں کا خالق اور بالفعل ان کا طبیعی حاکم ہے۔ 2۔ قانون کا ایک بہت بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس کا سارا حصہ اضافی ہے یا اس کا کوئی جزو حقیقی نوعیت بھی رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہر قانون جو آج رائج ہے کل بدلا جاسکتا ہے یا اس کا کوئی حصہ ایسا بھی ہے جو ناقابل تغیر ہے۔ اس سلسلے میں طویل ترین بحثوں کے باوجود آج تک کوئی قطعی بنیاد حاصل نہ ہوسکی۔ علمائے قانون اصولی طور پر اس کو ضروری سمجھتے ہیں کہ قانون میں ایک ایسا عنصر ضروری ہے جو عوامی نوعیت رکھتا ہو، اور اسی کے ساتھ اس میں ایسے اجزاء بھی ہونے چاہئیں جن میں لچک ہو، تا کہ بدلتے ہوئے حالات پر انہیں آسانی اپلائی کیا جاسکے۔ دونوں میں سے کسی ایک پہلو کی کمی قانون کے لیے سخت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page