مذہب اور تمدنی مسائل
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
مضہ ہے۔ امریکہ کے ایک جج مسٹر کارڈوزو (Justice Cardozo) لکھتے ہیں: ’’آج قانون کی اہم ترین ضروریات میں سے ایک ضرورت یہ بھی ہے کہ ایک ایسا فلسفۂ قانون مرتب کیا جائے جو ثبات اور تغیر کے متارب تقاضوں کے درمیان توافق پیدا کرے۔‘‘ The Growth of the Law, Benjamin Nathan Cardozo ایک اور عالم قانون لکھتا ہے: ’’قانون کو ضرور مستحکم ہونا چاہیے، لیکن اس کے باوجود اس میں جمود نہیں پیدا ہونا چاہیے، اسی وجہ سے قانون کے متعلق مفکرین نے اس بارے میں کافی جدوجہد کی ہے کہ کس طرح استحکام اور تبدیلی کے دو طرفہ تقاضوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔‘‘ Roscoe Pound, Interpretation of Legal History, p. 1 مگر حقیقت یہ ہے کہ انسانی قوانین میں اس قسم کا فرق پیدا کرنا ممکن ہے، کیوں کہ قانون کے کسی حصہ کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ دائمی اور ناقابل تغیر ہے، کوئی دلیل چاہتا ہے، اور انسانی قانون ایسی کوئی دلیل پیش کرنے سے عاجز ہے، آج کچھ لوگ ایک قانون کو اپنی عقل سے دائمی قرار دیں گے، اور کل کچھ لوگوں کی عقل کو نظر آئے گا کہ وہ دائمی ہونے کے قابل نہیں ہے، اور وہ دوبارہ اس کے قابل تغیر ہونے کا اعلان کر دیں گے۔ خدا کا قانون ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے، خدا کا قانون ہم کو وہ تمام بنیادی اصول دے دیتا ہے جو غیر متبدل طور پر ہمارے قانون کا لازمی جز و ہوسکیں۔ یہ قانون کچھ بنیادی امور کے بارے میں بنیادی پہلوؤں کا تعین کرتا ہے، اور بقیہ امور اور دیگر پہلوؤں کے بارے میں خاموش ہے، اس طرح وہ اس فرق کا تعین کر دیتا ہے کہ قانون کا کون سا حصہ دائمی ہے، اور کون سا حصہ قابل تغیر ہے، پھر وہ خدا کا قانون ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ یہ ترجیحی دلیل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader