مذہب اور تمدنی مسائل
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
بھی رکھتا ہے کہ کیوں ہم اس تعین کو مبنی برحق سمجھیں اور اس کو لازمی قرار دیں۔ یہ خدائی قانون کی بہت بڑی دین ہے، بلکہ ایک ایسی دین ہے، جس کا بدل فراہم کرنا انسان کے لیے قطعی ناممکن ہے۔ 3۔ اسی طرح قانون کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس اس بات کی کوئی معقول وجہ موجود ہو کہ وہ کیوں کسی جرم کو جرم قرار دیتا ہے۔ انسانی قانون کے پاس اس کا جواب یہ ہے کہ جو عمل امنِ عامہ یا نظم مملکت میں خلل ڈالتا ہو وہ جرم ہے، اس کے بغیر اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی فعل کو جرم کیسے قرار دے، یہی وجہ ہے کہ قوانین مروجہ کی نگاہ میں زنا اصلاً جرم نظر نہیں آتا بلکہ وہ صرف اس وقت جرم بنتا ہے، جب کہ فریقین میں سے کسی نے دوسرے پر جبر کیا ہو، گویا انسانی قانون کے نزدیک اصل جرم زنا نہیں بلکہ جبر و اکراہ ہے۔ جس طرح زبردستی کسی کے مال پر ہاتھ ڈالنا جرم ہے، اسی طرح زبردستی اس کے جسم پر دست درازی بھی جرم ہے۔ لیکن باہمی رضامندی سے جس طرح ایک کا مال دوسرے کے لیے جائز ہو جاتا ہے، اسی طرح گویا قانون کی نظر میں فریقین کی رضامندی سے ایک کا جسم بھی دوسرے کے لیے حلال ہو جاتا ہے۔ اس باہمی رضامندی کی شکل میں قانون ، زنا کا حامی و محافظ بن جاتا ہے، اور اگر تیسرا شخص زبردستی مداخلت کر کے انھیں روکنا چاہے تو الٹا وہی شخص مجرم بن جائے گا۔ زنا کا ارتکاب سوسائٹی میں زبردست فساد پھیلاتا ہے، وہ ناجائز اولاد کے مسائل پیدا کرتا ہے، وہ رشتہ نکاح کو کمزور کر دیتا ہے، وہ سطحی لذتیت کا ذہن پیدا کرتا ہے، وہ چوری اور خیانت کی تربیت کرتا ہے، وہ قتل اور اغوا کو فروغ دیتا ہے، وہ سارے سماج کے دل و دماغ کو گندا کر دیتا ہے، مگر اس کے باوجود قانون اسے کوئی سزا نہیں دے سکتا، کیوں کہ اس کے پاس زنابالرضا کو جرم قرار دینے کے لیے کوئی بنیاد نہیں ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader