مذہب اور تمدنی مسائل
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح انسانی قانون کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ وہ شراب نوشی کو جرم کیوں قرار دے۔ کیوں کہ کھانا پینا انسان کا ایک فطری حق ہے، اس لیے وہ جو چاہے کھائے پیے۔ اس میں قانون کو مداخلت کرنے کی کیا ضرورت۔ اس لیے اس کے نزدیک نہ شراب پینا جرم ہے، اور نہ اس سے پیدا شدہ بد مستی اصلاً قابل مواخذہ ہے۔ البتہ نشے کی حالت میں اگر خمور کسی سے گالم گلوچ کر بیٹھا یا ہاتھا پائی کی نوبت آ گئی، یا عام راستے پر وہ اس طرح جھومتا ہوا چلا کہ اس کی حرکات سے دوسروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے، تب کہیں جا کر قانون اس پر ہاتھ ڈالنا جائز سمجھے گا۔ گویا انسانی قانون کی رو سے در حقیقت شراب نوشی کا فعل قابل گرفت نہیں ہے، بلکہ اصل قابل گرفت جرم دوسروں کو ایک خاص شکل میں ایذا پہنچانا ہے۔ شراب نوشی صحت کو تباہ کرتی ہے، وہ مال کے بربادی اور بالآخر معاشی بربادی تک لے جاسکتی ہے۔ اس سے اخلاق کا احساس کمزور پڑتا ہے، اور انسان دھیرے دھیرے حیوان بن جاتا ہے، شراب مجرمین کی ایک بہترین مددگار ہے، جس کو پینے کے بعد لطیف احساسات مفلوج ہو جاتے ہیں، اور پھر قتل، چوری، ڈاکہ اور عصمت دری کے واقعات کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ہوتا ہے، مگر قانون اسے بند نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ وہ کیوں لوگوں کے کھانے پینے کے پسند و نا پسند پر روک لگائے۔ اس مشکل کا جواب صرف خدا کے قانون میں ہے۔ کیوں کہ خدا کا قانون مالک کائنات کی مرضی کا اظہار ہوتا ہے، کسی قانون کا خدا کا قانون ہونا بذات خود اس بات کی کافی وجہ ہے کہ وہ بندوں کے اوپر نافذ ہو اس کے بعد اس کے لیے کسی اور سبب کی ضرورت نہیں، اس طرح خدائی قانون، قانون کی اس ضرورت کو پورا کرتا ہے کہ کس بنیاد پر کس فعل کو قانون کی زد میں لایا جائے۔ 4۔ قانون کبھی اخلاق سے بے نیاز نہیں ہو سکتا، مختلف اسباب کی بنا پر قانون کے ساتھ اخلاق کا تعلق ہونا ضروری ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader