Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مذہب اور تمدنی مسائل

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

(الف) مثلاً ایک مقدمہ قانون کے سامنے آتا ہے۔ اس وقت اگر خالص سچائی منظر عام پر نہ آئے تو قانون کا عادلانہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اگر فریقین اور گواہ عدالتوں میں سچ بولنے سے گریز کریں تو انصاف کا خاتمہ ہو جائے گا، اور اس کے قیام کی ساری کوششیں بیکار ثابت ہوں گی گویا قانون کے ساتھ کسی ایسے ماورائے قانون کا تصور کی بھی لازمی ضرورت ہے، جو لوگوں کے لیے سچ بولنے کا محرک بن سکے۔ سچائی کے لازمۂ قانون و انصاف ہونے کا اعتراف دنیا بھر کی عدالتیں اس طرح کرتی ہیں کہ وہ ہر گواہ کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ سچ بولنے کی قسم کھائے اور حلف اٹھا کر اپنا بیان دے۔ قانون کے لیے مذہبی اعتقادات کی اہمیت کی یہ ایک نہایت واضح مثال ہے۔ مگر جدید سوسائٹی میں مذہب کی حقیقی اہمیت چوں کہ ہر پہلو سے ختم کر دی گئی ہے، اس لیے عدالتوں کی مذہبی قسمیں اب صرف ایک روایت بلکہ مسخرہ بن کر رہ گئی ہیں، اور ان کا کوئی واقعی فائدہ باقی نہیں رہا ہے۔ (ب) اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ قانون جس فعل کو جرم قرار دے کر اس پر سزا دینا چاہتا ہے، اس کے بارے میں خود سماج کے اندر بھی یہ احساس موجود ہو کہ یہ فعل جرم ہے، محض قانونی کوڈ میں چھپے ہوئے الفاظ کی بنا پر وہ فضا پیدا نہیں ہو سکتی، جو کسی جرم پر سزا کے اطلاق کے لیے درکار ہے، ایک شخص جب جرم کرے تو اس کے اندر احساسِ جرم (guilty mind) کا پایا جانا ضروری ہے، وہ خود اپنے آپ کو مجرم سمجھے اور سارا سماج اس کو مجرم کی نظر سے دیکھے، پولیس پورے اعتماد کے ساتھ اس پر دست اندازی کرے، عدالت میں بیٹھنے والا حج پوری آمادگی قلب کے ساتھ اس پر سزا کا حکم جاری کرے، دوسرے لفظوں میں ایک فعل کے ’’جرم‘‘ ہونے کے لیے اس کا ’’گناہ‘‘ ہونا ضروری ہے، قانون کے تاریخی مکتبِ فکر کا یہ کہنا کہ ــــ قانون سازی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب کہ وہ ان لوگوں کے داخلی اعتقادات (internal convictions) کے مطابق ہو، جس کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page