Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مذہب اور تمدنی مسائل

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

قانون وضع کیا گیا ہے، اگر وہ اس سے غیر متعلق ہو تو ایسے قانون کا ناکام ہونا یقینی ہے۔‘‘ A Textbook of Jurisprudence, p.15 اپنے مخصوص مکتب فکر کے استدلال کے طور پر تو صحیح نہیں ہے مگر اس میں ایک خارجی صداقت بیشک موجود ہے۔ (ج) ان سب چیزوں کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قانون کے عمل درآمد سے پہلے سماج کے اندر ایسے محرکات موجود ہوں جو لوگوں کو جرم کرنے سے روکتے ہوں، صرف پولیس اور عدالت کا خوف اس کے لیے کافی محرک نہیں بن سکتا، کیوں کہ پولیس اور عدالت کے اندیشہ سے تو رشوت، سفارش، غلط وکالت اور جھوٹی گواہیاں بھی بچاسکتی ہیں، اور اگر ان چیزوں کو استعمال کر کے کوئی شخص اپنے آپ کو جرم کے قانونی انجام سے بچالے جائے تو پھر اسے مزید کوئی اندیشہ باقی نہیں رہتا۔ خدائی قانون میں ان تمام چیزوں کا جواب موجود ہے، خدائی قانون کے ساتھ مذہب و آخرت کا عقیدہ وہ ماورائے قانون فضا پیدا کرتا ہے، جو لوگوں کو سچائی پر ابھارے، وہ اس درجہ مؤثر ہے کہ اگر کوئی شخص وقتی مفاد کے تحت جھوٹا حلف اٹھائے تو اپنے دل کو ملامت سے نہیں بچا سکتا، ویسٹرن سرکٹ کی عدالت میں ایک پتھر نصب ہے جو اس واقعہ کی یاد تازہ کرتا ہے کہ ایک گواہ نے قسم کے عام کلمات دہرانے کے بعد یہ بھی کہا تھا کہ ’’اگر میں جھوٹ بولوں تو خدا میری جان یہیں قبض کرلے۔‘‘ چنانچہ وہ شخص وہیں دھڑام سے گرا اور گر کر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ The Changing Law, p. 103 اسی طرح جرم کے فعل شنیع ہونے کا عام احساس بھی محض اسمبلی کے پاس کردہ ایکٹوں کے ذریعہ پیدا نہیں ہوسکتا، اس کی بھی واحد بنیاد خدا اور آخرت کا عقیدہ ہے، اسی طرح جرم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page