Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مذہب اور تمدنی مسائل

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ کرنے کا محرک بھی صرف مذہب ہی پیدا کر سکتا ہے، کیوں کہ مذہب صرف قانون نہیں دیتا بلکہ اسی کے ساتھ یہ تصور بھی دلاتا ہے کہ جس نے یہ قانون عائد کیا ہے، وہ تمہاری پوری زندگی کو دیکھ رہا ہے، تمہاری نیت، تمہارا قول، تمہاری تمام حرکتیں اس کے ریکارڈ میں مکمل طور پر منضبط ہوچکی ہیں، مرنے کے بعد تم اس کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور تمہارے لیے ممکن نہ ہوگا کہ تم اپنے جرائم پر پردہ ڈال سکو، آج سزا سے بچ گئے تو وہاں کی سزا سے کسی طرح بچ نہیں سکتے، بلکہ دنیا میں اپنے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے اگر تم نے غلط کوششیں کیں تو آخرت کی عدالت میں تمہارے اوپر دہرامقدمہ چلے گا، اور وہاں ایک ایسی سزا ملے گی جو دنیا کی سزا کے مقابلے میں کروڑوں گنا سخت ہے۔ 5۔ انگلستان کی تاریخ کا ایک واقعہ ہے۔ جیمز اول (James 1) نے اعلان کیا کہ وہ مطلق العنان بادشاہ کی طرح حکومت کر سکتا ہے، اور عدالتوں میں استغاثہ اور مرافعه کے بغیر معاملات میں آخری فیصلے دے سکتا ہے۔ یہ مشہور چیف جسٹس لارڈ کوک (Coke) کا زمانہ تھا، وہ ایک مذہبی آدمی تھے، اور اپنے دن کا ایک چوتھائی حصہ عبادت میں بسر کیا کرتے تھے۔ انھوں نے بادشاہ سے کہا: ”تمہیں فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، تمام مقدمات عدالت میں جانے چاہئیں‘‘۔ بادشاہ نے کہا: ”میرا خیال ہے اور یہی میں نے سنا بھی ہے کہ تمہارے قوانین کی بنیاد عقل پر رکھی گئی ہے، تو کیا مجھ میں ججوں سے کم تر عقل ہے۔‘‘ چیف جسٹس نے جواب دیا: ”تم بلاشبہ بہت علم وصلاحیت کے مالک ہو، لیکن قانون کے لیے بڑے تجربے اور مطالعے کی ضرورت ہے، یہ تو ایک سنہری پیمانہ ہے، جس سے رعایا کے حقوق کی پیمائش کی جاتی ہے، اور خود جناب والا کی حفاظت کی جاتی ہے۔‘‘ بادشاہ نے انتہائی غصہ سے کہا: ”کیا میں بھی قانون کا ماتحت ہوں، ایسا کہنا تو غداری ہے۔‘‘ لارڈ کوک نے بریکٹن (Bracton) کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page