مذہب اور تمدنی مسائل
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
”بادشاہ کسی آدمی کا ماتحت نہیں، مگر وہ خدا اور قانون کا ماتحت ہے۔“ The Changing Law by Sir Alfred Denning (1953) p. 117. 118 حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم خدا کو قانون سے الگ کر دیں تو ہمارے پاس یہ کہنے کی کوئی معقول بنیاد نہیں رہتی کہ ـــ بادشاہ قانون کے ماتحت ہے" کیوں کہ جن افراد نے خود اپنی رایوں سے قانون بنایا ہو، جن کے اذن (Sanction) سے وہ قانونی طور پر جاری ہوا ہو، جو اس کو باقی رکھنے یا بدلنے کا حق رکھتے ہوں، آخر کس بنا پر وہ اس کے ماتحت ہو جائیں گے۔ جب انسان ہی قانون ساز ہو تو بالکل فطری طور پر وہ خدا اور قانون دونوں کا جامع ہو جاتا ہے، وہ خود ہی خدا اور خود ہی قانون ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں قانون سازوں کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام جمہوریتوں میں شہری مساوات کے اصول کو تسلیم کرنے کے باوجود قانونی طور پر سب یکساں نہیں ہیں، اگر آپ ملک کے صدر، گورنر، وزیر یا کسی افسر اعلیٰ پر مقدمہ چلانا چاہیں تو آپ اسی طرح ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلا سکتے جیسے ایک عام شہری کے خلاف آپ کر لیتے ہیں، بلکہ ایسے کسی مقدمے کو عدالت میں لے جانے سے پہلے حکومت سے اس کی اجازت لینی ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں، اگر آپ کسی اعلیٰ سیاسی یا انتظامی شخصیت پر مقدمہ چلانا چاہیں تو خود انھیں سے پوچھنا ہوگا کہ آپ کے اوپر مقدمہ چلایا جائے یا نہیں۔ یہ ملک کے قانونی نظام کا نقص نہیں ہے بلکہ انسانی قانون کا نقص ہے، اور یہ نقص ہر اس جگہ پایا جاتا ہے، جہاں انسانی قانون سازی کا اصول رائج ہے۔ صرف خدائی قانون میں یہ ممکن ہے کہ ہر شخص کی حیثیت قانون کی نظر میں یکساں ہو، اور ایک حاکم پر اسی طرح عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکے جس طرح محکوم پر چلایا جاتا ہے، کیوں کہ ایسے نظام میں قانون ساز خدا ہوتا ہے، بقیہ تمام لوگ یکساں طور پر اس کے ماتحت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader