مذہب اور تمدنی مسائل
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
6۔ قانون کی آخری اور سب سے بڑی خصوصیت جس کو ہمارے ماہرین صدیوں سے تلاش کر رہے ہیں، اور اب تک وہ اسے حاصل نہ کر سکے وہ بھی صرف مذہبی قانون میں موجود ہے۔— یعنی قانون کی منصفانہ بنیاد، یہ سمجھا جاتا ہے کہ منصفانہ قانون کی بنیاد کا حاصل نہ ہونا تلاش کے نامکمل ہونے کا ثبوت ہے، نہ کہ اس بات کا ثبوت کہ انسان اسے حاصل ہی نہیں کر سکتا۔ مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ طبعی قوانین کی دریافت میں انسان نے بے حساب ترقی کی ہے، اور اس کے مقابلے میں تمدنی قوانین کی دریافت میں اس درجہ کی بلکہ اس سے زیادہ کوششوں کے باوجود ایک فی صد بھی کامیابی نہیں ہوئی، تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوتے ہیں کہ یہ محض تلاش کے نامکمل ہونے کا ثبوت نہیں ہے، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جو چیز تلاش کی جارہی ہے اس کا پانا انسان کے بس میں نہیں۔ دنیا میں سب سے پہلا فوٹو ایک فرانسیسی سائنسداں نے 1826ء میں کھینچا، اس میں آٹھ گھنٹے کا وقت لگا۔ اس نے اپنے کمرے کے برآمدے کا فوٹو کھینچا تھا، لیکن تصویر کشی (photography) کی موجودہ رفتار کا حال یہ ہے کہ آج کا کیمرا ایک سیکنڈ میں دو ہزار سے بھی زیادہ تصویریں کھینچ لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے جتنی دیر میں صرف ایک تصویر کھینچی جاسکتی تھی، اتنی دیر میں آج چھ کرور تصویریں لی جاسکتی ہیں۔ گویا رفتار کے معاملے میں 140 سال میں انسان نے چھ کرور گنا ترقی کی ہے۔ امریکا میں بیسویں صدی کے آغاز میں سارے ملک میں صرف چار موٹر کاریں تھیں، اب تقریباً بس کرور کاریں وہاں سڑکوں پر دوڑتی ہیں، انسان کی باریک بینی کا یہ حال ہے کہ آج وہ سیکنڈ کو بھی ہزارویں (1/10,00,000) حصے تک تقسیم کر سکتا ہے۔ یعنی، ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے کا ہزارواں حصہ۔ چنانچہ زمین کی گردش میں فرق پڑنے سے اگر ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے کے بققدر چھوٹا یا بڑا رصد گاہوں میں اسے معلوم کر لیا جاتا ہے۔ آج ایسے حساس آلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader