Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مذہب اور جدید چیلنج

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

دریافت ہوچکے ہیں کہ اگرتین جلدوں کی انسائیکلوپیڈیا میں کسی ایک صفحہ پر دو الفاظ بڑھائے جائیں تو اس کی سیاہی سے وزن میں جو فرق پڑے گا، اس کو وہ فوراً بتادیں گے۔ طبیعی قوانین کی دریافت میں انسان کی ترقی کا حال ہے، مگر جہاں تک تمدنی قوانین کا معاملہ ہے، وہ اس میں ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکا۔ یہاں میں چند تقابلی مثالیں دوں گا، جن سے اندازہ ہوگا کہ یہ دعویٰ کس قدر صحیح ہے کہ صرف خدائی مذہب ہی وہ حقیقی بنیاد ہے، جس سے ہم انسانی زندگی کا قانون اخذ کر سکتے ہیں۔ معاشرت اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان فرق کیا ہے۔ وہ دونوں صنفوں کے درمیان آزادانہ اختلاط کو ناپسند کرتا ہے، اور اس کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد جب صنعتی دور شروع ہوا تو اس اصول کا بہت مذاق اڑایا گیا، اور اس کو دورِ جہالت کی یادگار قرار دیا گیا۔ بڑے زور شور سے یہ بات کہی گئی کہ عورت مرد دونوں یکساں ہیں، ان کے میل جول کے درمیان کوئی دیوار کھڑی نہیں کی جاسکتی۔ ساری دنیا میں اور خاص طور سے مغرب میں اس اصول پر ایک نئی سوسائٹی ابھرنا شروع ہوئی، مگر طویل تجربے نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ پیدائشی طور پر دونوں یکساں نہیں ہیں، اس لیے دونوں کو یکساں فرض کرکے جو سماج بنایا جائے وہ لازمی طور پر بے شمار خرابیاں پیدا کرنے کا باعث ہوگا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب، خاتونِ اسلام، مطبوعہ نئی دہلی)۔ پہلی بات یہ کہ عورت اور مرد میں فطری صلاحیتوں کے زبردست نوعی اختلافات ہیں اس لیے دونوں کو مساوی حیثیت دینا اپنے اندر ایک حیاتیاتی تضاد رکھتا ہے، ڈاکٹر الکس کیرل عورت اور مرد کے فعلیاتی (Physiological) فرق کو بتاتے ہوئے لکھتا ہے: ”مرد اور عورت کا فرق محض جنسی اعضا کی خاص شکل، رحم کی موجودگی، حمل یا طریقہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page