Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

معاشرت

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلیم ہی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ اختلاف بنیادی قسم کے ہیں، خود نسیجوں کی بناوٹ اور پورے نظامِ جسمانی کے اندر خاص کیمیائی مادے جو خصیہ الرحم سے مترشح ہوتے رہتے ہیں، ان اختلافات کا حقیقی باعث ہیں، صنفِ نازک کے ترقی کے حامی ان بنیادی حقیقتوں سے ناواقف ہونے کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں جنسوں کو ایک ہی قسم کی تعلیم، ایک ہی قسم کے اختیارات اور ایک ہی قسم کی ذمہ داریاں ملنی چاہئیں، حقیقت یہ ہے کہ عورت، مرد سے بالکل ہی مختلف ہے، اس کے جسم کے ہر ایک خلیے میں زنانہ پن کا اثر موجود ہوتا ہے، اس کے اعضا اور سب سے بڑھ کر اس کے اعصابی نظام کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ فعلیاتی قوانین (Physiological Law) اتنے ہی اٹل ہیں، جتنے کہ فلکیات ( Sidereal World) کے قوانین اٹل ہیں، انسانی آرزوؤں سے ان کو بدلا نہیں جاسکتا، ہم ان کو اسی طرح ماننے پر مجبور ہیں، جس طرح وہ پائے جاتے ہیں، عورتوں کو چاہیے کہ اپنی فطرت کے مطابق اپنی صلاحیتوں کی ترقی دیں اور مردوں کی نقالی کرنے کی کوشش نہ کریں۔“ Man, the Unknown, p.93 عملی تجربہ بھی اس فرق کی تصدیق کر رہا ہے۔ زندگی کے کسی شعبہ میں بھی اب تک عورت کو مرد کے برابر درجہ نہ مل سکا۔ حتیٰ کہ وہ شعبے جو خاص طور پر عورتوں کے شعبے سمجھے جاتے ہیں، وہاں بھی مرد کو عورت کے اوپر فوقیت حاصل ہے۔ میری مراد فلمی ادارے سے ہے۔ نہ صرف یہ کہ فلمی اداروں کی تنظیم تمام تر مردوں کے ہاتھ میں ہے، بلکہ اداکاری کے اعتبار سے بھی مرد کی اہمیت عورت سے زیادہ ہے۔ آج (1962ء میں) ایک مشہور ترین فلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page