معاشرت
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
ایکٹریس فلم کے لیے چھ لاکھ روپے لیتا ہے، جب کہ مشہور ترین ایکٹرس کو اسی فلم کے لیے صرف چار لاکھ ملتے ہیں۔ مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ اگر ہم طبعی اور فلکیاتی قوانین کو تسلیم نہ کریں اور ان کے خلاف چلنا شروع کر دیں تو یہ صرف ایک واقعہ کا انکار ہی نہیں ہوگا بلکہ ہمیں اس کی بڑی قیمت بھی دینی پڑے گی۔ عورت اور مرد کی جداگانہ قابلیت کو نظر انداز کر کے انسان نے جو نظام بنایا، اس نے تمدن کے اندر بہت سی خرابیاں پیدا کر دی ہیں۔ مثال کے طور پر اس غلط فلسفے کی وجہ سے دونوں صنفوں کے درمیان جو آزادانہ اختلاط پیدا ہوا ہے، اس نے جدید سوسائٹی میں نہ صرف عصمت کا وجود باقی نہیں رکھا، بلکہ ساری نو جوان نسل کو طرح طرح کی اخلاقی اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ آج مغربی زندگی میں یہ بات عام ہے کہ ایک غیر شادی شدہ لڑکی ڈاکٹر کے کمرہ میں داخل ہوتی ہے، اس کو سر درد اور بے خوابی کی شکایت ہے، وہ کچھ دیر اپنی ان تکلیفات پر گفتگو کرتی ہے، اس کے بعد ایک مرد کا ذکر شروع کر دیتی ہے، جس سے ابھی وہ جلد ہی ملی تھی، اتنے میں ڈاکٹر محسوس کرتا ہے کہ وہ کچھ رک رہی ہے، تجربہ کار ڈاکٹر اس کی بات سمجھ کر آگے بات شروع کر دیتا ہے: Well, then he asked you to his flat. What did you say? لڑکی جواب دیتی ہے: How did you know? I was just going to tell you that... اس کے بعد لڑکی جو کچھ کہتی ہے، اس کو ناظرین خود قیاس کر سکتے ہیں۔ چنانچہ علمائے جدید خود بھی اس تلخ تجربے کے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آزادانہ اختلاط کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader