Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مذہب اور جدید چیلنج

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

اشتہا کو بڑھا کر مزید تسکین نفس کی طرف ڈھکیلتے ہیں، اور بالآخر انتہائی جنسی جرائم تک پہنچ دیتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ان محرکات کو کس طرح حرام قرار دے۔ یہاں میں اقوام متحدہ کے ڈیموگرافک سالنامہ 1959ء کا حوالہ دوں گا۔ اس میں اعدادوشمار کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ جدید دنیا میں جو صورتحال ہے، وہ یہ کہ بچے اندر سے کم اور باہر سے زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔ ڈیموگرافک سالنامہ کے مطابق کچھ ملکوں میں ناجائز بچوں کا تناسب ساٹھ فیصد ہے، اور بعض ممالک مثلاً پاناما میں تو چار بچوں میں سے تین بچے پادریوں کی مداخلت یا سول میرج رجسٹری کے بغیر ہی پیدا ہو رہے ہیں، یعنی 75 فیصد ناجائز بچے ۔ لاطینی امریکہ میں اس قسم کے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے اس ڈیموگرافک سالنامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم ملکوں میں ناجائز بچوں کی پیدائش کا تناسب نفی کے برابر ہے۔ چنانچہ اس میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب جمہوریہ (مصر) میں ناجائز بچوں کا تناسب ایک فی صدی سے بھی کم ہے، جبکہ متحدہ عرب جمہوریہ تمام مسلم ملکوں میں شاید سب سے زیادہ مغربی تہذیب سے متاثر ہوا ہے۔ مسلم ممالک دور جدید کی اس عام وبا سے محفوظ کیوں ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم ممالک مغربی ممالک کے برخلاف عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ اختلاط بہت کم ہے۔ اس لیے وہاں ناجائز ولادت کم ہیں۔ (”More Out Than In مطبوعہ ہندوستان ٹائمز، 12 ستمبر 1960ء) تعداد ازدواج اسی طرح اسلام میں ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کو بھی تہذیب جدید نے بڑے زور شور کے ساتھ جہالت (ignorance) کا قانون قرار دیا ہے، مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page