Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تعددِ ازدواج

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

تجربے نے ظاہر کر دیا ہے کہ اسلام کا یہ اصول سماجی ضرورت کے مطابق ہے۔ یہ سماج میں پیدا ہونے والے مسئلے کا حل ہے، نہ کہ حکم، جس پر عمل کرنا ہر وقت ضروری ہو۔ وہ مسئلہ کیا ہے۔ سروے بتاتے ہیں کہ باعتبار پیدائش عورت اور مرد کی تعداد تقریباً یکساں ہوتی ہے۔ یعنی جتنے بچے، تقریباً اتنی ہی بچیاں۔ مگر شرح اموات (Mortality) کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کے درمیان موت کی شرح زیادہ ہے۔ یہ فرق بچپن سے لے کر آخر عمر تک جاری رہتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیہ (1984) کے مطابق، عمومی طور پر، موت کا خطرہ عمر کے ہر مرحلہ میں، عورتوں کے لیے کم پایا گیا ہے اور مردوں کے لیے زیادہ: In general, the risk of death at any given age is less for females than for males (EB. VII/37) اکثر حالات میں سماج کے اندر عورتوں کی تعداد کا زیادہ ہونا اور مردوں کی تعداد کا کم ہونا مختلف اسباب سے ہوتا ہے۔ مثلاً جنگ۔ پہلی عالمی جنگ (18-1914) میں آٹھ ملین سے زیادہ فوجی مارے گئے۔ شہری لوگ جو اس جنگ میں ہلاک ہوئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ یہ زیادہ تر مرد تھے۔ دوسری عالمی جنگ (45-1939) میں ساڑھے چھ کروڑ آدمی ہلاک ہوئے یا جسمانی طور پر ناکارہ ہوگئے۔ یہ سارے لوگ زیادہ تر مرد تھے۔ عراق، ایران جنگ میں (88-1979) میں ایران کی 82 ہزار عورتیں بیوہ ہوگئیں۔ عراق میں ایسی عورتوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے جن کے شوہر اس دس سالہ جنگ میں ہلاک ہوئے۔ اسی طرح مثال کے طور پر جیل اور قید کی وجہ سے بھی سماج میں مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے۔ امریکا کو موجودہ زمانہ میں دنیا کی مہذب ترین سوسائٹی کی حیثیت حاصل ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکا میں ہر روز تقریباً 13 لاکھ آدمی کسی نہ کسی جرم میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page