Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تعددِ ازدواج

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

پکڑے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک تعداد وہ ہے جو لمبی مدت تک کے جیل میں ڈال دی جاتی ہے۔ ان سزا یافتہ قیدیوں میں 97 فیصد مرد ہی ہوتے ہیں۔ (1102/14-EB) اسی طرح جدید صنعتی نظام نے حادثات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں حادثاتی موتیں روز مرہ کا معمول بن گئی ہیں۔ سڑک کے حادثے، ہوائی حادثے، کارخانوں کے حادثے اور دوسرے مشینی حادثے ہر ملک میں اور ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ جدید صنعتی دور میں یہ حادثات اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ اب سیفٹی انجینئرنگ (safety engineering) کے نام سے ایک مستقل فن وجود میں آ گیا ہے۔ 1967ء کے اعداد و شمار کے مطابق، اس ایک سال میں پچاس ملکوں کے اندر مجموعی طور پر 175000 حادثاتی موتیں واقع ہوئیں، یہ سب زیادہ ترمرد تھے (137/16-EB)۔ صنعتی حادثات کی موتوں میں، سیفٹی انجینئرنگ کے باوجود، پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر، ہوائی حادثات جتنے 1988ء میں ہوئے، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ اسی طرح تمام صنعتی ملکوں میں مستقل طور پر اسلحہ سازی کے تجربات ہو رہے ہیں۔ ان میں برابر لوگ ہلاک ہوتے رہتے ہیں۔ ان ہلاک شدگان کی تعداد کبھی نہیں بتائی جاتی، تا ہم یہ یقینی ہے کہ ان میں بھی تمام تر صرف مرد ہی ہیں جو ناگہانی موت کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے مختلف اسباب کی بنا پر عملی صورت حال اکثر یہی ہوتی ہے کہ سماج میں عورتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہو، اور مردوں کی تعداد نسبتاً کم ہو جائے۔ دنیا کی آبادی میں مرد اور عورت کی تعداد کے فرق کو بتانے کے لیے یہاں کچھ مغربی ملکوں کے اعداد و شمار دیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) سے لیے گئے ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page