تعددِ ازدواج
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈیا کے حوالے سے اس کی تفصیل جاننا ہو تو انڈیا ٹوڈے (15 نومبر 1978) کی 8 صفحات کی با تصویر رپورٹ ملاحظہ فرمائیں، جو اس با معنی عنوان کے تحت شائع ہوئی ہے کہ بیوائیں، انسانیت کا برباد شدہ ملبہ: Widows: Wrecks of humanity اس مسئلہ کے حل کے لیے ایک صورت یہ ہے کہ یہ "فاضل" عورتیں جنسی آوارگی یا معاشرتی بربادی کے لیے چھوڑ دی جائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے ایسے مردوں کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں وابستہ ہو جائیں جو ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ عدل کر سکتے ہوں۔ مذکورہ بالا دو ممکن صورتوں میں سے اسلام نے دوسری صورت کا انتخاب کیا ہے ۔ یعنی مخصوص شرائط کے ساتھ کچھ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت۔ تعدد ازدواج کا یہ اصول جو اسلامی شریعت میں مقرر کیا گیا ہے، وہ دراصل عورتوں کو مذکورہ بالا قسم کے بھیانک انجام سے بچانے کے لیے ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے کہ عملی طور پر کوئی عورت کسی مرد کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر ہنگامی حالات ہی میں راضی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader