مذہب اور جدید چیلنج
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوسکتی ہے، نہ کہ معمول کے حالات میں۔ بظاہر یہ ایک عام حکم ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ حکم دراصل ایک سماجی مسئلے کے عملی حل (practical wisdom) کے طور پر وضع کیا گیا ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب، تعدد ازدواج ، مطبوعہ گڈ ورڈ بکس، نئی دہلی)۔ تمدن اسلام میں قتل عمد کی سزا موت ہے۔ الا یہ کہ مقتول کے ورثاء خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں، لیکن جدید دور ترقی میں جہاں مذہب کی اور تعلیمات کے خلاف ذہن پیدا ہوا، اسی طرح سزائے قتل کے بارے میں بھی سخت تنقید کی جانے لگیں۔ ان حضرات کا خاص استدلال یہ ہے کہ اس قسم کی سزا کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسانی جان کے ضائع ہونے کے بعد دوسری انسانی جان کو بھی کھودیا جائے ۔ پچھلے برسوں میں اکثر ملکوں میں اس رجحان نے بڑی تیزی سے ترقی کی ہے، اور پھانسی کے بجائے قید کی سزائیں تجویز کی جارہی ہیں۔ اسلام نے قاتل کی جوسز امقرر کی ہے، اس میں دو اہم ترین فائدے ہیں، ایک یہ کہ ایک شخص نے سوسائٹی کے ایک فرد کو قتل کر کے جس برائی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی جڑ آئندہ کے لیے کٹ جائے، مجرم کا یہ عبرت ناک انجام دیکھ کر دوسرے لوگ آئندہ اس قسم کی ہمت نہ کرسکیں، اسی کے ساتھ دیت کی جو صورت ہے، اس میں گویا اسلام نے نتائج کا لحاظ کیا ہے، مثلاً اگر کسی کے والدین بوڑھے ہوں اور ان کا اکلوتا بیٹا قتل ہو جائے تو وہ بے سہارا رہ جاتے ہیں، ایسی حالت میں قاتل کو سزائے موت بھی مل جائے تو انھیں کیا فائدہ، اسلام نے ایسے والدین کی تلافی کے لیے یہ طریقہ رکھا ہے کہ قاتل کے ورثاء مقتول کے والدین کو ایک خاص رقم بطور خوں بہا دے کر انھیں راضی کر لیں، اور وہ قاتل کو معاف کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader